جمعہ دس اپریل کا دن جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں، پاکستان کی آٹھ عشروں کی عمر میں بلاشبہ ایسا تاریخ ساز لمحہ ہے جس میں پوری دنیا کی نظریں اس امید کے ساتھ اسلام آباد پر لگی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بے مثال بصیرت و فراست اور نیک نیتی کیساتھ کی گئی انتھک کوششیں کرہ ارض کو ہولناک عالمگیر جنگ کا شکار ہونے سے بچالیں گی۔ تین دن پہلے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کو ایک ہی رات میں صفحہ ہستی سے مٹاڈالنے کے صدر ٹرمپ کے اعلانات نے پوری عالمی برادری کو خوف و دہشت میں مبتلا کررکھا تھا جبکہ ایرانی قیادت اور قوم اپنی خودمختاری اور خودداری کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے کیلئے پوری طرح پرُعزم تھی۔ اسرائیل اور امریکہ کے میزائل ایران پر برس رہے تھے اور ایران بھاری جانی و مالی نقصانات کے باوجود جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں میں قائم امریکی اڈوں پر مسلسل حملے کررہا تھا۔ چھ ہفتوں سے بندآبنائے ہرمز کے کھلنے کے کوئی آثار نہ تھے جسکے نتیجے میں تیل کی بین الاقوامی قیمتیں ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھیں اور پوری دنیا کی معیشت سخت زبوں حالی کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔دو سو ملکوں کی رکنیت رکھنے والا اقوام متحدہ کا عظیم الشان ادارہ تیسری عالمی جنگ کی راہ روکنے میں قطعی بے بس نظر آرہا تھا۔ تاہم پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سخت مایوس کن حالات کے باوجود امریکہ اور ایران کی قیادتوں کو جنگ بندی پر تیار کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف تھی۔وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور ہر لمحہ بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے حقیقت بننے اور اسکے نتیجے میں پوری دنیا میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھنے کا خطرہ بڑھا رہا تھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب مٹا دی جائے گی۔
تاہم بدھ کو طلوع فجر سے کچھ دیر پہلے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت امریکہ اور ایران دونوں کو پندرہ دن کی جنگ بندی اور اس دوران براہ راست مذاکرات سے اختلافات کے مستقل اور پرامن حل کی تلاش پر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ پوری انسانی برادری کو ناقابل تصور طور پر تباہ کن جنگ کے شعلوں سے بچانے کی پاکستان کی اس کاوش کو دنیا کی تقریباً تمام ہی حکومتیں اور قومیں خراج تحسین پیش کر رہی ہیں ۔ اس صورتحال نے جنیوا کے بجائے پاکستان کے دارالحکومت کو عالمی سفارت کاری کا مرکز بنادیا ہے اور اقبال کی یہ خواہش کہ ’’تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا... شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے‘‘ تہران کے بجائے اسلام آباد کی شکل میں پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔ جنگ بندی پر امریکہ سے زیادہ ایران کو رضامند کرنا مشکل تھا ۔ تہران کا مؤقف تھا کہ گزشتہ فروری کی آخری تاریخ اور اس سے پہلے جون میں امریکی قیادت نے نتیجہ خیز ہوتے مذاکراتی عمل کے آخری مرحلے میں ایران پر تباہ کن حملے شروع کرکے اپنا اعتبار قطعی کھودیا ہے لہٰذا امریکہ سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ایران کے برعکس امریکی قیادت مذاکرات کیلئے زیادہ بے چین نظر آرہی تھی ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ صدر ٹرمپ جو ایران میں رجیم چینج کی تمام کوششوں میں ناکام ہوجانے کے بعد انتہائی تباہ کن فضائی حملوں اور مزید شدید کارروائیوں کی دھمکیوں کے ذریعے ایران کو اپنی من مانی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کردینے کی امید رکھتے تھے، ایرانی قیادت اور عوام نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ان حملوں کا مقابلہ کیا اور ٹرمپ جس قوم کو نرم نوالہ سمجھ کر سموچا نگل جانے میں کامیاب ہونے کا گمان رکھتے تھے، وہ لوہے کا چنا ثابت ہوئی جسے چبانے کی کوشش میں دانت ٹوٹ سکتے تھے مگر جسے چبایا نہیں جاسکتا تھا۔ ایرانی حکومت نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب اپنے میزائل حملوں کی شدت بڑھا کر دیا اور واضح کردیا کہ ایرانی قوم فتح یا شہادت کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے آخری دم تک لڑنے کا عزم کرچکی ہے۔ تاہم پاکستان نے ایران کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کا راستہ اختیار کیا اور ایرانی قیادت کو اپنی میزبانی میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اختلافات کا تصفیہ کرنے کی ایک اور کوشش پر رضامند کرلیا۔
یہ ہے وہ پس منظرجس میں پاکستان کی حیرت انگیز سفارت کاری کے باعث امریکہ اور ایران جنگ کے میدان سے مذاکرات کی میز تک آگئے ہیں۔ دونوں ملکوں کی انتہائی اعلیٰ حکومتی شخصیات پاکستان کی میزبانی میں اس بات چیت میں شریک ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کررہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیریڈ کشنر شامل ہیں۔ ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کررہے ہیں۔ مذاکرات کی بنیادایران کے دس اور امریکہ کے پندرہ نکاتی مطالبات ہیں۔امریکی مطالبات میں ایران کے جوہری مراکز کا خاتمہ، جوہری ہتھیار کبھی بھی نہ بنانے کی ضمانت، افزودہ یورینیم کو عالمی توانائی ایجنسی کے حوالے کرنا، ایران میں یورینیم افزودگی اور میزائل پروگرام بند کرنا، خطے میں ایران کی پراکسی گروپس کی حمایت ختم کرنا، تیل کی تنصیبات پر حملے بند کرنا اورآبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھلا رکھنا شامل ہیں۔جبکہ ایران کے مطالبات میں تمام امریکی اور عالمی پابندیوں کا مکمل خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہنا، مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا، ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے بند کرنا،ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بنانا اور ایران کو نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا شامل ہیں۔
مذاکرات کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی تاہم پاکستان کی کوششوں کی پذیرائی کرتے ہوئے دونوں فریقوں کا بات چیت کا آغاز کردینا اس خوش امیدی کا باعث ضرور ہے کہ دونوں جانب سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر کوئی ایسا معاہدہ کرلیا جائیگاجو پائیدارعلاقائی اورعالمی امن کا ضامن ثابت ہو۔اسرائیل کیلئے موجودہ صورتحال جس قدر تکلیف دہ ہے، اس کی بنا پر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی خاطر نیتن یاہو کی جانب سے کسی بھی سازشی کارروائی کا ہر لمحہ امکان ہے جسے ناکام بنانے کیلئے امریکہ اور ایران دونوں کو ہوشمندی سے کام لینا ہوگا۔