جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے تو اسلام آباد میں تاریخ خاموشی سے نہیں بلکہ فیصلہ کن انداز میں لکھی جا رہی ہو گی۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کی دو بڑی قوتیں برسوں کی دشمنی، شکوک، پراکسی جنگوں اور براہِ راست تصادم کے بعد ایک میز پر آ بیٹھی ہیں۔ دس اور گیارہ اپریل کے یہ دو دن محض سفارتی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں یا تو جنگ کا باب بند ہو گا یاخدانخواستہ ایک نئی اور زیادہ خطرناک کشیدگی جنم لے گی۔ اس پورے منظرنامے کا مرکز اسلام آباد ہے۔دو ہفتوں کی جنگ بندی مستقل امن نہیں بلکہ ایک نازک وقفہ ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے عالمی توانائی کی شریان گزرتی ہے، اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ خطے میں اعتماد کی کمی عسکری دباؤاور عالمی طاقتوں کی کشمکش اس بات کی علامت ہیں کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اسلام آباد کے یہ مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔یہ مذاکرات محض سفارتی گفتگو نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی اور اسٹرٹیجک تصادم ہیں۔ ایک طرف ایران کا دس نکاتی ایجنڈا مکمل خودمختاری، پابندیوں کے خاتمے، اثاثوں کی بحالی اور علاقائی طاقت کے نئے توازن کا مطالبہ کرتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کا پندرہ نکاتی ایجنڈا،ایرنی جوہری پروگرام پر سخت پابندی، میزائل صلاحیتوں کی محدودیت، اور خطے میں اسکے اثر و رسوخ کو قابو میں رکھنے کی بات کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں ایک طرف آزادی کی توسیع کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف طاقت کے توازن کی بندش اور یہی اس مذاکرات کی اصل بنیاد ہے۔کامیابی کے امکانات کو اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو صورتحال نہ مکمل پرامید ہے نہ مکمل مایوس کن۔ اندازاً پچاس سے ستر فیصد کے درمیان پیش رفت کا امکان ہے۔ امریکہ کی جانب سے بعض نکات پر لچک دکھانے کے اشارے ہیں، مگر ایران اپنے بنیادی مؤقف پر قائم ہے اور امریکی شرائط کو’’زیادہ مطالباتی‘‘ قرار دے رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔اصل رکاوٹیں واضح ہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور خطے میں اسکے اتحادی گروہ امریکہ کیلئے اسٹرٹیجک خطرہ سمجھے جاتے ہیں جبکہ ایران کیلئے پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خودمختاری بنیادی تقاضے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ عالمی معیشت کے لیے اتنا اہم ہے کہ اس پر معمولی اختلاف بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اس سب کے اوپر ایک غیر یقینی عنصر اسرائیل کا ممکنہ کردار ہے جو اس پورے عمل کو کسی بھی وقت متاثر کر سکتا ہے۔تاہم حقیقت یہی ہے کہ بظاہر ناممکن تنازعات بھی مذاکرات سے حل ہوئے ہیں۔ Camp David Accords نے مشرق وسطیٰ میں ایک تاریخی دشمنی کو ختم کیاجبکہ Joint Comprehensive Plan of Action نے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک نازک مگر مؤثر سمجھوتہ ممکن بنایا۔ یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی ارادے اور مؤثر ثالثی سے بڑے بحران بھی حل ہو سکتے ہیں۔اسلام آباد میں موجود شخصیات اس عمل کی سنجیدگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ ڈی جے وینس امریکی داخلی و خارجی سیاست میں ایک مضبوط آواز ہیں۔ Steve Witkoff کاروباری دنیا سے آنے کے باوجود سفارت کاری میں عملی نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔ Jared Kushner مشرق وسطیٰ میں سفارتی معاہدوں کے تجربے کے حامل ہیں۔ دوسری جانب ایران کی نمائندگی Mohammad Bagher Ghalibaf اور Abbas Araghchi جیسے تجربہ کار اور سخت موقف رکھنے والے رہنما کر رہے ہیں۔ یہ افراد صرف نمائندے نہیں بلکہ اپنے اپنے ریاستی نظاموں کی پالیسی سوچ کا نچوڑ ہیں۔پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں محض ایک میزبان کا نہیں بلکہ ایک فعال اور فیصلہ کن ثالث کا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سفارتی سطح پر وہ سیاسی دروازے کھولے جنہوں نے واشنگٹن اور تہران دونوں کو ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ کیا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس پیچیدہ خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹجک اعتماد کی وہ بنیاد فراہم کی جسکے بغیر اس نوعیت کے مذاکرات ممکن نہ تھے۔ یہ سیاسی قیادت اور عسکری حکمت عملی کا وہ امتزاج ہے جس نے پاکستان کو ایک Passive observerسے نکال کرActive mediatorبنا دیا ، جس سے نہ صرف ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ہوا بلکہ پاکستان جغرافیائی اہمیت اور اس سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی تجزیہ کار اس عمل کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک نازک توازن ہے جو کسی بھی لمحے بگڑ سکتا ہے۔ اگر مذاکرات میں ٹائم فریم پر اتفاق ہو جاتا ہے، جنگ بندی کو توسیع ملتی ہے اور بنیادی نکات پر لچک دکھائی جاتی ہے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہو گی۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں فریقین مکمل جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ امریکہ عالمی سیاسی دباؤ اور داخلی تقسیم کا شکار ہے جبکہ ایران معاشی پابندیوں اور داخلی دباؤ سے دوچار ہے۔ یہی مشترکہ مجبوری ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کا سب سے بڑا محرک بن سکتی ہے۔اگر اس پورے عمل کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایران اور امریکہ کا تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نئے توازن کی تشکیل کا مرحلہ ہے۔ توانائی کی سیاست مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اہمیت اور بڑی طاقتوں کی مسابقت یہ سب اس مذاکرات کے اندر سمٹے ہوئے ہیں۔ اور اسلام آباد اس وقت اس پورے عالمی منظرنامے کا غیر متوقع مرکز بن چکا ہے۔تیل کی عالمی منڈی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی قیمتوں کو جھٹکا دے سکتی ہے۔ اسی لیے اقتصادی دنیا بھی ان مذاکرات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹس توانائی کے معاہدے اور عالمی سپلائی چین سب اس عمل سے جڑے ہوئے ہیں۔تو کیا یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے؟ جواب ابھی حتمی نہیں مگر امکانات بہت ہیں۔ اگر سفارتکاری نے سیاست پر غالب آنا جاری رکھا ،اگر فریقین نے اپنی سرخ لکیروں میں لچک دکھائی اور اگر پاکستان کی ثالثی مؤثر رہی تو یہ دنیا کے سب سے بڑے تنازعات میں سے ایک کے حل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔اور اگر ایسا ہو گیا تو تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ ایک معاہدہ ہوا تھا بلکہ یہ لکھے گی کہ ایک وقت ایسا آیا تھا جب دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، مگر اسلام آباد نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت خاموش ہوئی اور مکالمہ بول اٹھا۔