امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن پہلے جب سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں نامناسب لفظ استعمال کیا تو دنیا بھر میں شور مچ گیا۔ اخبارات نے اس پوسٹ کا ذکر کرکے شہ سرخیاں نکالیں اور سیاست دانوں نے مذمت کی۔ صدر ٹرمپ نے تنقید کا کوئی اثر نہ لیا۔ بلکہ اگلے ہی دن ایران کو دھمکی دی کہ اس نے امریکی شرائط پر سمجھوتا نہ کیا تو ایک پوری تہذیب کا خاتمہ کردیا جائیگا۔ اس کا بھی سخت ردعمل آیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ سفارتی انداز نہیں ہے اور کسی ملک کے صدر کو ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ سچ پوچھیں تو مجھے صدر ٹرمپ کی پوسٹس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ میں لسانیات کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے ایک عرصے سے ان کے بیانات اور گفتگو دیکھ سُن رہا ہوں اور اس میں اس جنگ کے دوران بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ کی زبان اور اندازِ گفتگو معاصر سیاست میں ایک مختلف مثال کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی تقریروں، انٹرویوز اور سوشل میڈیا پیغامات میں ایک خاص قسم کی تکرار اور جذباتی شدت پائی جاتی ہے، جسے لسانی ماہرین محض عام سیاسی زبان نہیں بلکہ ایک مخصوص Idiolect (ذاتی انداز زبان) اور Populist rhetoric (عوامی بیانیہ) قرار دیتے ہیں۔ ان کی زبان کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی سادگی ہے۔ وہ پیچیدہ جملوں اور مشکل الفاظ کے بجائے مختصر اور براہِ راست جملے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ بار بار وی آر گوئنگ ٹو ون بگ (ہم بڑی فتح حاصل کرنے والے ہیں) یا اٹس گوئنگ تو بی گریٹ (یہ عظیم واقعہ ہوگا) جیسے جملے دہراتے ہیں۔ یہاں بگ (بڑا) یا گریٹ (عظیم) جیسے الفاظ معنی کے لحاظ سے مبہم ہیں لیکن ان کا مقصد مثبت تاثر اور سامعین میں جوش پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس قسم کی زبان میں تفصیل کم اور اثر زیادہ ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی گفتگو میں تکرار ایک اہم حربہ ہے۔ وہ ایک ہی لفظ یا فقرہ کئی بار دہراتے ہیں تاکہ وہ سامعین کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ مثال کے طور پر فیک نیوز ایک ایسی اصطلاح ہے جسے وہ بار بار استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر اس کا مطلب غلط خبریں ہے لیکن وہ اس اصطلاح کو ان میڈیا اداروں کیلئے استعمال کرتے ہیں جو ان پر تنقید کرتے تھے۔ اس طرح ایک عام سا لفظ ان کا سیاسی ہتھیار بن گیا ۔ اسی طرح میک امریکا گریٹ اگین(امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں) ایک سادہ نعرہ ہے لیکن اس کے اندر ایک وسیع اور مبہم تصور چھپا ہوا ہے۔ یہاں اگین یعنی دوبارہ کا لفظ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ماضی کے ایک مثالی تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے، حالانکہ یہ واضح نہیں کہ وہ کون سا دور تھا۔ اس طرح کا جملہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھ سکتا ہے اور یہی اس کی طاقت ہے۔
ٹرمپ کی زبان سے بعض اوقات ایسے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں جن کا ظاہری مطلب کچھ اور ہوتا ہے لیکن ان کا اشارہ کسی اور طرف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر لا اینڈ آرڈر ایک عمومی اصطلاح ہے لیکن سیاسی سیاق میں یہ اکثر سخت پالیسیوں، پولیس کی طاقت میں اضافے یا مخصوص سماجی گروہوں کے خلاف اقدامات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اسی طرح امریکا فرسٹ بظاہر حب الوطنی کا نعرہ ہے لیکن بعض ناقدین کے مطابق یہ بین الاقوامی تعاون سے فاصلے یا قوم پرستی کے خاص نظریے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ٹرمپ کی گفتگو میں ایک اور پہلو ہائپربولی یعنی مبالغہ ہے۔ وہ اکثر دا بیسٹ (بہترین) دا ورسٹ(بدترین) اور نو بڈی ہیز ایور سین اینی تھنگ لائیک دس(کسی نے آج تک ایسا ہوتے نہیں دیکھا) جیسے جملے استعمال کرتے ہیں۔ یہ جملے حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ایک ڈرامائی اثر پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی بات کو زیادہ اہم بناکر پیش کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی زبان میں ایک قسم کی غیر رسمی اور مکالماتی کیفیت بھی ہے۔ وہ اکثر ادھورے جملے، وقفے اور فوری ردعمل کی صورت میں بات کرتے ہیں جس سے سامعین کو لگتا ہے کہ وہ ایک سیاست دان کے بجائے عام آدمی کی طرح بات کررہے ہیں۔یہی انداز ان کی مقبولیت کا اہم سبب سمجھا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی زبان کو سمجھنے کے لیے صرف الفاظ کے لغوی معنی کافی نہیں۔ ان کے بیانات میں اکثر ایسے اشارے، جذباتی اپیلیں اور مبہم تصورات شامل ہوتے ہیں جو مختلف سامعین کے لیے مختلف معنی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان سادہ لیکن موثر سیاسی ہتھیار بن جاتی ہے، جسے سمجھنے کے لیے سیاق و سباق، سامعین اور مقصد، تینوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔