ایران نے مذاکرات کیلئے اپنی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیج دی۔
ایران کے سرکاری میڈیا ارنا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تجویز جمعرات کو بھیجی گئی ہے۔
اس سے پہلے بھیجی جانے والی ایران کی تجاویز میں جنگ کا خاتمہ اور حملے دوبارہ نہ کرنے کی ضمانت مانگی گئی تھی، سمندری ناکا بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہُرمُز کھولنے پر آمادگی اور اس کے بعد نیوکلیئر ایشو پر بات کرنا بھی تجاویز کا حصہ تھا، امریکی صدر نے اس وقت تجاویز مسترد کردی تھیں۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو تجویز پیش کرنے سے متعلق وائٹ ہاؤس سے سوال کیا گیا، جس پر وائٹ ہاؤس نے جواب دیا کہ ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیل نہیں بتاتے، مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کئی ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں باضابطہ ثالث کی حیثیت پاکستان کو حاصل ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی جہاز پر قبضے کو "سمندری قزاقی" سمجھتے ہیں، معاملہ پاکستانی ثالث کے ذریعے اٹھا رہے ہیں تاکہ زیر حراست ایرانی شہریوں کی رہائی ممکن بنائی جاسکے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنر شپ معاہدے کے تحت سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکی محکمہ خارجہ کا بیان شیئر کرتے ہوئے امریکی حملے کو دفاعی اقدام قرار دینے کا دعویٰ مسترد کردیا، اور کہا کہ امریکی حملہ اپنا دفاع نہیں بلکہ ایران کے خلاف کھلی جارحیت تھی۔