• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اشرف المخلوقات انسان کوچوہابنانےوالی اصل چیز اسکی خواہشات ہیں۔ انسان ایک فریج، ایک کلر ٹی وی کیلئے چوہا بن جاتا ہے ۔ ایم این اے یا ایم پی اے کو چھوڑیں، وہ بلدیاتی نظام میں کونسلر بننے کے لیے چوہا بن جاتا ہے اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے بعد وہ زندگی یہ سوچ کر گزارتا ہے کہ اب وہ انسان نہیں چوہا بن چکا ہے۔

گزشتہ روز ایک چوہے سے میری بات ہوئی۔ اسے اپنے چوہا بننے پر کوئی شرمساری نہ تھی۔ سابق انسان اور موجودہ چوہے کا کہنا تھا کہ ہوس کے نظام کی وجہ سے پاکستان کی کثیر آبادی چوہوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی شکلیں تبدیل ہو رہی ہیں، ان کے پاسپورٹ تبدیل ہو رہے ہیں ، ان کی شناخت تبدیل ہو رہی ہے، چنانچہ چوہوں کی بستی میں جو چند انسان رہ جائیں گے ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا، لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہو چوہا بن جاؤ۔

میں نے اس سادہ لوح اور تازہ تازہ چوہے کی جُون میں آئے ہوئے سابق انسان کو مخاطب کیا اور ہنستے ہوئے کہا’’تم بھی بہت بھولے ہو۔ تم سمجھتے ہو میں ابھی چوہا نہیں بنا۔ برخوردار میں بہت سینئر چوہا ہوں ، صرف میڈیا کے زور پر انسان کہلاتا ہوں۔ اگر یقین نہیں آتا تو میری تحریریں غور سے پڑھا کرو۔ تمھیں ان میں ہمیشہ ایک چوہا رینگتا ہوا نظر آئے گا۔ میرے جیسے اور بھی بہت سے چوہے ہیں، جن کے کالموں اور ٹی وی پر تجزیوں کے دوران ان کے اندر کا چوہا پھدک کر باہر آجاتا ہے۔‘‘

دوست سے دوران گفتگو میں نے اپنے فون میں یوٹیوب آن کی اور دوست سے کہا’’تمہاری تصدیق کے لیے میں تمھیں ایک نہیں، بے شمار چو ہے دکھاتا ہوں ۔ ان میں بہت سے چوہے ایسے تھے جنھوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا۔ یہ سب بھاری رقوم کے عوض۔گالی گلوچ میں مشغول تھے اور ان کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں سامع چوہے موجود تھے جو ان کی ہر واہیات بات پر نعرہ بازی کرتے تھے جس پر ان کے زور بیان میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا‘‘۔

پھر میں نے اسے سیاسی چوہے دکھائے جو اختلاف کرنیوالوں سے گالم گلوچ میں مشغول تھے۔ میں نے دوست سے کہا ’’ تم نے تو ابھی یہ کہا تھا کہ معاشرے میں چوہے بہت ہیں، میں تمھیں ان کی شکلیں بھی دکھانا چاہتا ہوں۔ ‘‘

میں اسے اپنے ساتھ ایک شاپنگ سنٹر لے گیا۔ وہاں اکثر دکانوں میں چوہے بیٹھے تھے جو سو روپے کی چیز ایک ہزار میں بیچ رہے تھے۔ میں اسے ایک عدالت میں لے گیا، وہاں بھی چوہوں کی بھر مار تھی۔ پھر میں نے اسے ایک سیاستدان سے ملایا۔ اس نے مجھ سے چھوٹتے ہی کہا’ یہ حکومت کمزور ہو گئی ہے، آپ کے خیال میں اسکی جگہ کون سی پارٹی لے گی؟‘

میں نے کہا’’ آپ تو اس حکومت میں بہت اچھی پوزیشن پر فائز ہیں ، آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ ‘‘بولے میں نے حکومت کو اشٹام لکھ کر نہیں دیا ہوا کہ ساری عمر تمہارے ہی ساتھ رہوں گا ، اگلی حکومت کیلئےبھی تو ابھی سے جگہ بنانی چاہئے۔

میں نے جواب دیا’’ برادر مجھے کچھ علم نہیں، آپ کو اگر کوئی خبر ہے تو سب سے پہلے مجھے بتائیے گا ، میں بھی آپ ہی کی طرح کا انسان ہوں‘‘۔میں نے اسے انسان کہا، چوہا کہتا تو ناراض ہو جاتا۔

اس ساری مشق کے بعد میں اور میرا دوست ایک چائے خانے میں جا بیٹھے ۔ دوست نے کہا یار یہ تو بہت پریشان کن صورتحال ہے۔ یہاں تو ہر کوئی چوہا بننے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ ملک کا کیا بنے گا؟

میں اپنے اس چوہے دوست کی بات پر کھل کر ہنسا اور اس پر وہ ناراض ہو گیا اور پوچھا کہ تم کیوں ہنسے؟میں نے کہا’’ تم جانتے ہو تم ایک چوہے ہو۔ میں بھی جانتا ہوں کہ میں ایک چوہا ہوں، یوٹیوب پر میں نے تمھیں جو بظاہر انسانی چہرے دکھائے وہ بھی اندر سے چوہے تھے۔ ان کے ہزاروں سامعین بھی چوہوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالت کے اہلکار بھی چوہے ہی تھے ۔ یہ سب چوہے اور ان کے علاوہ خود میں اور تم بھی جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے یہی پوچھتے ہیں کہ ملک میں انسان کم اور چوہے زیادہ ہو گئے ہیں ، ملک کا کیا بنے گا ؟‘‘

اس پر دوست نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو مگر میرے سوال کا جواب تو درمیان ہی میں رہ گیا۔میں نے جواب دیا’’اس کا جواب یہ ہے کہ میں اور تم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے آئندہ چوہا نہیں بننا ۔اس کے بعد اپنے اپنے حلقے میں لوگوں کو چوہا بننے سے روکیں گے اور انھیں کہیں گے کہ اگر تمھیں واقعی پاکستان سے محبت ہے تو خدا کے لیے انسان بن جاؤ ، اس مشن کی تکمیل میں وقت تو لگے گا مگر کامیابی کی صورت میں میرے اور تمہارے بچے سکون کی زندگی بسر کر سکیں گے‘‘۔ میں نے یہ بات مکمل کرنے کے بعد دوست کی طرف دیکھا تو وہاں ایک چوہا بیٹھا مجھے گھور کر دیکھ رہا تھا۔

تازہ ترین