• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کا آبنائے ہرمز سے ٹیکس بطور جنگی ہرجانہ وصول کرنے کا عندیہ

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق اور ممکنہ نئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں مزاحمت، استقامت، دفاعی حکمتِ عملی اور واضح طور پر سخت مؤقف اپنانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایران جنگی ہرجانے کے حصول کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے بطور آلہ استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں مجوزہ محصولات (ٹیرف) منصوبہ بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران خطے میں اپنے بعض اثر و رسوخ سے محروم ہوا ہے، ایسے میں آبنائے ہرمز کو ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں لیوریج کے طور پر استعمال کرنے کا تصور ابھر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اس معاملے پر بات چیت کے لیے تیار تھا اور اسی سلسلے میں وہ اسلام آباد ایک مجوزہ پیکیج کے ساتھ پہنچا، جہاں ممکنہ رعایتوں کے بدلے میں اس مسئلے پر مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔

موجودہ صورتِ حال میں سفارتی کوششیں کسی نتیجہ خیز پیش رفت سے تاحال دور دکھائی دیتی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید