مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی۔
بھارتی میڈیا ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کو امریکا کے اس اقدام سے روزانہ تقریباً 435 ملین ڈالرز کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی یہ ناکہ بندی آبنائے ہرمز پر ایران کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتی ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل گزرتی ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل، خوراک اور دیگر اشیاء کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔
بھارتی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کی یومیہ برآمدات میں تقریباً 276 ملین ڈالرز کی کمی آ سکتی ہے، خاص طور پر خام تیل اور پیٹروکیمیکلز میں تاہم نقصان کا حتمی اندازہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ ناکہ بندی کتنی مؤثر ہوتی ہے اور ایران کس حد تک متبادل راستے استعمال کر پاتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا کی حکمتِ عملی ایران کی توانائی کی برآمدات کو محدود کر کے اس کی آمدنی کم کرنا ہے، اس اقدام سے ایران کے بڑے آئل ٹرمینل ’خارگ آئی لینڈ‘ کی اہمیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب چین جو بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اس صورتِ حال سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے جس سے عالمی سیاست میں نئی صف بندیاں بننے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق ناکہ بندی کے نفاذ کے لیے امریکی بحریہ کو بڑے پیمانے پر بحری جہاز اور عملہ درکار ہو گا، اس اہم تجارتی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا امریکا کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں کارروائی کی شدت اور جہازوں کی پکڑ دھکڑ اس ناکہ بندی کی کامیابی کا تعین کرے گی تاہم مکمل نفاذ مشکل دکھائی دیتا ہے۔