امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت کو روس اور ایران سے تیل خریدنے کے لیے دی گئی عارضی پابندیوں میں نرمی کو مزید توسیع نہیں دے گا جس کے بعد بھارت سمیت کئی ممالک متاثر ہوں گے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ روسی اور ایرانی تیل کے لیے دی گئی عمومی اجازت ختم ہو چکی ہے اور اب اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی، یہ رعایت صرف ان تیل بردار جہازوں تک محدود تھی جو 11 مارچ سے پہلے روانہ ہوئے تھے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے یہ نرمی عالمی توانائی بحران کے دوران عارضی طور پر کی گئی تھی تاکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے، خاص طور پر اس وقت جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہوئی۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق بھارت ان رعایتوں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل تھا۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی ریفائنریز نے اس دوران تقریباً 30 ملین بیرل روسی تیل کے آرڈر دیے، اس کے علاوہ کئی سال بعد ایرانی تیل کے جہاز بھی بھارتی بندرگاہوں پر پہنچے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایران بھارت کو تیل فراہم کرنے والا بڑا ملک تھا تاہم 2019ء میں امریکی پابندیوں کے بعد یہ درآمدات بند ہو گئی تھیں، اس سے قبل ایرانی تیل بھارت کی کُل درآمدات کا 11.5 فیصد حصہ تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا کا یہ فیصلہ ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کا حصہ ہے۔