• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلی نظر میں کوئی اچھا لگے یہ فلموں،افسانوں اور گلستان سعدی میں دیکھا اور پڑھا۔ بڑھاپے میں ٹرمپ پسند آیا، فیلڈ مارشل کا انڈیا کے چھ جہاز خاک کرنا اور وزیراعظم کا بار بار کہنا کہ ٹرمپ عظیم شخص ہے اور امن کے نوبیل انعام کا حقدار ٹرمپ ہی ہے۔ یہ دونوں تو صیفی کلمات ٹرمپ کو ایسے بھائے کہ جنگ ایران سے بند کرنے کی تحریک اور مہربان بننے کے بلاوےکہ پاکستان کو ثالث منتخب کر کے وقتی جنگ بندی کے اشارے کے ساتھ ہی پاکستان کو ثالث مان کر بس دو دن کا وقفہ دیا اور چل میرے گھوڑے۔ چونکہ ایسا حیران کن لمحہ ایران اور امریکہ کے درمیان 47 سال بعد اچانک آیا اور اس پر فوری امن مذاکرات کئے اُدھر پاکستان کو ڈوبنے سے بچنے کا بہانہ اور دنیا پہ اپنی صلح جوائی کا کرشمہ دکھانے کا سنہری اور عالمی امن کی عارضی بیٹھک کیلئے پاکستان نے اپنے سارے جوہر اور گوہربہار کے رنگ اور جب جہاز سے اتر کر ایرانی ہوں کہ امریکی، فیلڈ مارشل سے ملنے اور شہباز شریف سے گھٹ کے جھپی ڈالتے، دونوں ملکوں نےدیکھامگر یہ تو نہیں کہ

تم گلے سے مل گئے ،سارا گلہ جاتا رہاہے

مگر دونوں ملکوں کیلئے آمنے سامنے، 21گھنٹے تک اکٹھے بیٹھنے کا ماحول دونوں نے ایک دوسرےسے جو ظاہر ی محبت دکھائی تھی وہ ہوا تو پہلے گھنٹے ہی میں ہوگئی کئی دفعہ اُٹھنے لگے تو میزبانوںکی محبت اور دلجوئی کی خاطر پھر بیٹھ گئے21 گھنٹوں میں دونوں طرف اُکتائے ہوئے چہرے کہ ایک دوسرے کو مسکراکر دیکھنے کو بھی رضامند نہیں تھے ،بداعتمادی کی فضا میں گھٹن بڑھتی گئی۔ ایک دوسرے کو ذرا سی بھی رعایت دینے کیلئے کسی چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔ پاکستان نے اس پورے دن میں غیر جانب دار رہتے ہوئے کبھی کوئی نکتہ، فیلڈ مارشل کے ذریعے اور کبھی ڈار صاحب کے ذریعے اس بیکار محبت میں جان ڈالنے کی کوشش کی، ویسے بھی دونوں ملک اپنے اپنے ایجنڈے سینے سے چمٹائے رہے وہ سارا ماحول جو قہقہوں اور بغل گیری سے شروع ہوا تھا۔ بغیر کسی اعلامیے، ایک دوسرے کو خدا حافظ کہے بغیر ختم ہوا۔وطن واپسی میں مگر پہل وینس صاحب یعنی ڈپٹی صدر صاحب نے کی جہاز کی سیڑھیاں چڑھے بغیر کسی مسکراہٹ کے رخصتی کا ہلکاسا ہاتھ ہلا کے اپنے گھر کو چل دئیے۔

ایرانی وفد نے غصے اور نفرت کو سٹکنے میں کچھ وقت لیا اور دوپہر کو چلے گئے۔ ڈار صاحب نے اس الجھن کو اپنی لکھی ہوئی تقدیر سے سنبھالا دیا اور کہا کہ مذاکرات کو بے نتیجہ مت کہیں اور میڈیا نے قوموں کو بہلانے کے لئے پھر وہی ہنستے گلفام اور شگفتہ چہرے سارے دن دکھادئیے۔ مگر دونوں دن، دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان کے فون، وزیراعظم کو آتے رہے کہ امن کا یہ موقع ان دونوں ملکوں کے ہاتھ سے مت جانے دینا۔ پاکستان کی اتنی پذیرائی عالمی سطح پر سمیٹنے کے بعد آغا خاں نے کہا کہ ہم بھی اس امن کی کوشش میں پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں اور ہوٹل میں جو اخراجات ہوئے ہیں انکی ادائیگی، ہم خود کرنا چاہیں گے۔

ثالثی اجلاس کے دوران بھی ٹرمپ صاحب حکم اور ہدایات دیتے رہےاور آخر واپس پہنچنے پر اپنا تیر کمان لےکر حملہ آور ہوئے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ہر ترکیب ہماری فوج کرےگی۔ یہیں پہ ساری دنیا کی قوموں کو یاد آیا کہ ایسی دھمکی تو پاکستان کے سیشن سے پہلے یہ کہہ کر دے رہے تھے کہ جس تہذیب کو تم سات ہزار سال پرانی کہہ رہے ہو ، اس کو میں 30 منٹ میں اڑا کر خاک کردوںگا۔

اب ٹرمپ کی دھمکی کا وقت ہوا،ایرانی بھی بار بار پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو فون پر شکریہ ادا کرنے کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ جنگ نے بہر حال ختم ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کے سامنے ٹرمپ کی فوجیں کچھ کرنا چاہ رہی ہیں خلیج فارس، ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

ایران اب بھی یہ کہہ رہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیںہوا ہے۔مذاکرات میں کیا ہوا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ بس دو نکتوں کا فاصلہ رک گیا تھا... امریکی سفارت کار اُکتائے ہوئے تھے۔ اب بھی ڈار صاحب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی طرف سے صلح اور امن کی کوششیں کرتا رہےگا پاکستان کے سارے لوگوں کو جہاز میں شہید بچیوں کی تصویروں نے بہت رلایا ہے۔ اعلیٰ دماغ ایرانی سربراہوں اور آیت اللّٰہ کو شہید کرکے ٹرمپ بہت خوشی سے کہہ رہا ہے کہ اب ہے کیا ایران کے پاس۔

گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ، ٹرمپ نے ایک طرف آبنائے ہرمز کا محاصرہ کیادوسری طرف پھر بولےکہ’ مذاکرات پھر ہوسکتے ہیں مکمل نہیں ہوئے‘۔ ادھر وینس نے بھی کہا کہ بس یورینیم والا قصہ زیرِ بحث رہا، ورنہ بہت ساری باتوں پر اتفاق ہوچکا تھا۔ ایران پر یورینیم افزودگی کے لئے امریکہ 20 سال کی پابندی کی ضد کررہا تھا اور ایرانی وفد نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات کیلئے ہمیں اختیار نہیں۔

بہرحال اب پھر صلح کرنے کیلئے خود ٹرمپ نے کہا ہے کہ سفارت کاری کی میٹنگ دوبارہ کہاں ہو۔ امریکی صدر مذاکرات کے لئے جگہ کے انتخاب کا مسئلہ چھیڑ کر ، خودتو فٹ بال میچ دیکھنے چلے گئے۔ دوسری طرف چین، روس اور پوپ، ایران کی حمایت میں کچھ بول رہے تھےکہ آواز آئی، ’’ میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑاہے ‘‘ یہ آشا بھوسلے کی آواز تھی جو 92سال کی عمر میں گنگناتی چلی گئی تھیں۔ میں لیپ ٹاپ کھول کر سن رہی ہوں۔

تازہ ترین