امریکا میں گزشتہ 35 سال سے رہائش پذیر بھارتی نژاد خاتون مینو بترا کو امریکی امیگریشن حکام نے گرفتار کر لیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 53 سالہ مینو بترا کو 17 مارچ کو ہارلنجن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک عدالتی کام کے سلسلے میں سفر کر رہی تھیں۔
مینو بترا کے مطابق اُنہوں نے اہلکاروں کو اپنا قانونی اسٹیٹس اور ورک پرمٹ دکھانے کی کوشش کی مگر اس کے باوجود اِنہیں ہتھکڑی لگا کر گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں ریمونڈول کے ایل ویلے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مینو بترا ٹیکساس میں پنجابی، ہندی اور اردو کی واحد لائسنس یافتہ عدالتی ترجمان ہیں، اُنہوں نے جیل کے عملے سے گفتگو میں اپنی گرفتاری کو ’عجیب اور غیر منطقی‘ قرار دیا ہے، مینو بترا کے مطابق اِن کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
مینو بترا نے الزام لگایا ہے کہ گرفتاری کے بعد اِنہیں 24 گھنٹے تک نہ کھانا دیا گیا، نہ پانی اور نہ ہی ادویات فراہم کی گئیں، مزید یہ کہ اہلکاروں نے ان کی ایسی تصاویر بھی بنائیں جن میں وہ ہتھکڑیوں میں موجود تھیں، مینو نے اس رویے کو تذلیل آمیز قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مینو بترا 1991ء میں امریکا گئی تھیں، انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جنوبی ٹیکساس میں گزارا اور اپنے 4 بچوں کی پرورش کی جبکہ اِن کا بیٹا حال ہی میں امریکی فوج میں شامل ہوا ہے۔
مینو بترا کے وکیل کے مطابق 2000ء میں عدالت نے بترا کو بھارت واپس نہ بھیجنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہاں اِنہیں خطرہ لاحق تھا تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی حکومت اِنہیں کسی تیسرے ملک بھیج سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تاحال امریکی حکام نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ بترا کو کہاں ڈی پورٹ کیا جائے گا جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔