امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز دوباہ بند کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ امریکا کو بلیک میل نہیں کرسکتا۔
ان خیالات کا اظہار امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں طبی تحقیق سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط سے متعلق تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کو اپنی کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسپین اپنے دفاع پر جی ڈی پی کا 5 فیصد خرچ کرنے میں ناکام رہا، اسپین کے پاس ایسا کچھ نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کی اجازت کی ضرورت نہیں، اگر ہم چاہیں تو ہم ان کے اڈوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اسپین کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، اسپین کی معیشت کمزور ہوچکی ہے، وہ نیٹو میں بھی حصہ نہیں ڈالتے۔
ایگزیکٹیو آرڈر سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طبی شعبے میں اصلاحات لارہے ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 80 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ میں بھی کمی آئی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایف ڈی اے ان ادویات کے جائزے کے عمل کو تیز کرے جنہیں بریک تھرو تھراپی کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ یہ تجرباتی علاج ذہنی امراض کے شکار لوگوں اور ہمارے سابق فوجیوں کی زندگی بدل دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان نئے علاجوں کی مدد سے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی، ان جدید علاجوں کو جلد از جلد ان تک پہنچایا جائے جنہیں انکی زیادہ ضرورت ہے۔
ادھر امریکی میڈیا کے مطابق ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد سائیکڈیلک ادویات پر طبی تحقیق کو تیز کرنا ہے، تحقیق کا مقصد سابق فوجیوں میں پی ٹی ایس ڈی اور ذہنی امراض کا علاج دریافت کرنا ہے۔