• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ امر واقع ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ اشیائے خورو نوش تک کے نرخوں میں شتر بے مہار اضافے کا باعث بنتا ہے جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام کی قوتِ خرید پہلے ہی سْکڑتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں پٹرولیم نرخوں میں اضافہ عوام کیلئے قطعی طور پر ناقابلِ برداشت ہے اگرچہ امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی اور ڈیزل کی قیمت میں بھی کچھ کمی ہوئی ہے تاہم اب بھی یہ قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتیں نہ صرف معاشی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیںبلکہ عوامی بے چینی، اضطراب اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم نرخوں میں اس قدر اضافہ کیا محض مالیاتی دباؤکا نتیجہ ہے یا پھر اس کے پیچھے پالیسی سازی کی کمزوریاں اور انتظامی ناکامیاں کارفرما ہیں؟یہ حقیقت ہے کہ حکومت کے اس فیصلے نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ جو شخص پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، اب اس کیلئے2 وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی کا اعلان بظاہر ایک مثبت قدم ہے، مگر کیا یہ سبسڈی اس وسیع تر بحران کا مؤثر حل ہے؟۔ اگر عوام کو مسلسل قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہا تو اس کے نتیجے میں نہ صرف معاشی عدم استحکام بڑھے گا بلکہ ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اصلاحی اقدامات کرے اور پٹرولیم کے نرخ خاطر خواہ کم کرے بصورت دیگر نتائج بھی حکومت کو خود ہی بھگتنا ہوں گے۔یہاں بتاتا چلوں کہ حکومت نے ایک ماہ کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 70 سے 90 فیصد اضافہ کیا ہے، جبکہ اس دوران عالمی منڈی میں قیمت 50 فیصد کے قریب بڑھی ، اس طرح عالمی قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ نرخ پاکستان میں بڑھائے گئے۔ مارچ کے آغاز میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 70ڈالر کے قریب تھی، جواب ایران جنگ کے باعث 100 ڈالر کے آس پاس ہے، اس طرح عالمی منڈی میں تیل قیمت میں تقریباً 45 سے 50 فیصد کا اضافہ ہوا، دوسری طرف پاکستان میں مارچ کے آغاز میں پٹرول 258روپے لیٹرتھا، جو 137روپے 23 پیسے اضافے کے بعد 458 روپے 40 پیسے کا ہو گیا، اس طرح پٹرول کی قیمت میں 3 ماہ کے دوران 200 روپے فی لیٹرکا بڑا اضافہ ہوا، جو 78 فیصد اضافہ بنتا ہے، یوں حکومت نے پٹرول عالمی قیمت کے مقابلے میں بھی تقریباً 30 فیصد زیادہ مہنگا کر دیا، اس طرح یکم مارچ کو ڈیزل جسکی قیمت 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر تھی، 184 روپے 49 پیسے کے ریکارڈ اضافے کیساتھ 520 روپے 35 پیسے ہوگئی۔ جو 245 روپے فی لیٹر اضافہ تھا، یوں ڈیزل ایک ماہ میں 89 فیصد مہنگا کیا گیا ، جبکہ یکم فروری کو ڈیزل کی قیمت میں کیا گیا 11 روپے کا اضافہ بھی شامل کر لیا جائے، تو ڈیزل تقریباً سو فیصد کے قریب مہنگا کیا گیا ، عالمی منڈی میں اس دوران اضافہ 50 فیصد کے قریب رہا۔اب عوام کے دباؤ کی وجہ سے ڈیزل 380 روپے اور پیٹرو ل 368 روپے کر دیا گیا ہےجو اب بھی 150روپے زیادہ ہے۔

حکومت نے کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر 12 ارب 45 کروڑ کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (میپر ا) نے ملک بھر کیلئے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کر دی ہے۔ نیپر ا حکام کے مطابق فروری کی فیول ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی 1 روپیہ 42 پیسے مہنگی کی گئی، جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اضافہ بجلی صارفین سے اپریل کے بلوں میں وصول کیا جائے گا، حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔ لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چار جنگ اسٹیشنز پر اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ نیپرانے فروری کی ایڈ جسٹمنٹ سے متعلق سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، اس سے قبل جنوری کی ایڈ جسٹمنٹ میں بجلی 1 روپیہ 63 پیسے مہنگی کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق حالیہ اضافےسے بجلی صارفین پر 12 ارب 45 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑئیگا۔ملک اس وقت ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عام آدمی کیلئے روزی کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور گزاراکرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بےروزگاری ایک ایسی حقیقت ہےجومنفی دستک دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے عوام کی جیبیں خالی کر دی ہیں۔ ضروری اشیاء کی قیمتیں اس رفتار سے بڑھ رہی ہیں کہ خاندانوں کا گزارہ مشکل ہو گیا ہے۔ قوت خرید جس تیزی سے گر رہی ہے، اس نے لاکھوں لوگوں کو خط غربت کے قریب پہنچا دیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عوامی بے چینی جب ایک خاص حد سے گزر جاتی ہے تو اسے روکنا آسان نہیں رہتا، نہ صرف معیشت متاثر ہو تی ہے بلکہ سیاسی عدم استحکام بھی بڑھنے کا خطرہ ہوتاہے، جسکے اثرات پورے نظام پر پڑ تے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت صرف بیانات تک محدود نہ رہے۔ زمینی حقائق کا تقاضا ہے کہ عالمی ادارے کے سامنے ملکی صورتحال واضح انداز میں رکھی جائے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، کسی نئے اضافے کا مطلب مہنگائی کی ایک نئی لہر ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ پٹرولیم پر لیوی کم کی جائے، ساتھ ہی حکومت کو اپنے اخراجات میں حقیقی کمی لانا ہوگی، اشرافیہ کی مراعات اور غیر ضروری خرچ ختم کرنا ہوں گے، یہ واحد راستہ ہے، جس سے ریونیو کا خلا کم کیا جاسکتا ہے۔

تازہ ترین