اقوام عالم کی نگاہوں کا مرکز اس وقت اسلام آبادہے۔ ایران امریکہ اسرائیل کی جنگ کے بادل منڈلاتے ہوئے ہر طرف آگ بکھیر رہے تھے تو اس موقع پر پاکستان کے حکمران میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ جنگ بندی کرانے کا بیڑا اٹھایا جس میں اللّٰہ تعالیٰ کی بے پایاں مدد شامل حال ہوئی اور امریکہ اور ایران کے وفود اسلام آباد میں پہنچے اور مذاکرات کا مثبت آغاز ہوا پھر نہ جانے یکایک امریکی نائب صدر امریکہ واپس چلے گئے۔ اب مذاکرات کے سلسلے کا دوسرا دور انشاءاللّٰہ اسی ہفتے اسلام آباد میں ہو گا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے حکمران بھی باتوں باتوں میں اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات حتمی اور فیصلہ کن ہوں گے کیونکہ دونوں اطراف سے بات چیت کرکے پاکستان کے حکمران جو اطلاع دے رہے ہیں اس سے امریکہ کو بھی یقین ہے کہ یہ دو طرفہ معاہدہ ہو جائیگا۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جو کامیابی اس معاہدے کے سلسلے میں ملی ہے وہ ان دونوں اشخاص کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے، اس معاہدے کیلئے فریقین کو راضی کرنا اور ساتھ ساتھ گلف کے حکمرانوں کو معاہدے کی معاونت کیلئے مطمئن کرنا کارِ آساں نہیں تھا ۔ کئی روزسے وزیراعظم پاکستان سعودیہ، ترکیہ اور قطر کے مختصر دورے کر کے اسلام آباد میں ہونے والی ٹاکس کو کامیاب بنانےکیلئے سرگرم عمل ہیں وزیراعظم کا قطر ، سعودی عرب اور ترکیہ میں والہانہ استقبال اس چیز کی غمازی ہے کہ ہمارے یہ برادر ملک پاکستان کی جدوجہد کو سراہ رہے ہیں اور اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ہی وقت میں دورہ ایران اور وہاں پر ایران کے صدر اور پاسداران انقلاب کی قیادت سے ملاقاتیںایران کے عوام کادل موہ رہی ہیں ۔ابھی جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بیرونی ممالک کے دوروں پر ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےامریکہ کے مختلف شہروں میں پھر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر کہا ہے کہ دنیا میں امن کیلئےیہ دونوں نام اقوام عالم میں گونج رہے ہیں اورتوقع کی جا رہی ہے ایران اور امریکہ کے درمیان اسی ہفتے ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوں گے اور اسلام آباد کو جو دونوں ممالک کے حکمرانوں نے محفوظ اور مذاکرات کیلئے موزوں جگہ قرار دیا ہے یہ پاکستان پر دنیا کا اعتماد ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان مذاکرات میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر اور دیگر گلف ممالک کے سربران کو بھی اسلام آباد تشریف لانے کی دعوت دی جائیگی ۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ چین ،روس اور شمالی کوریا کے حکمرانوں کو بھی اس موقع پر ایز اے وٹنس دعوت دی جائے تو یہ معاہدہ اقوام عالم کا سپر معاہدہ ہوگا اور اسلام آباد کے نام پرہونے والے معاہدے سے جو اقوام عالم میں معاشی طور پر ثمرات حاصل ہوں گے اس کی نظیر پہلے ہونے والے معاہدوں میںنہ ملے گی ۔پاکستان کے عوام افواج پاکستان اور حکومت کے ساتھ ہیں اور سب کی دعا اور خواہش ہے کہ یہ معاہدہ امن کا پیامبر بن کر اسلام آباد کی سرزمین پر ایسا رقم ہو کہ دوبارہ اقوام عالم میں کسی بھی جگہ کوئی ملک کسی پر جارحیت کرکےاس کودبانے کی کوشش نہ کرے ۔اس موقع پر میں امریکہ پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اقوام عالم میں جتنے بھی ممالک ہیں وہ خود مختار ہیں وہ اپنے دفاع کیلئے جو بھی انتظامات کریں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے اب امریکہ کے پاس ایٹم بم ہے تو کون اس کے خلاف اعتراض کرتا ہے لیکن جب ایران کی باری آتی ہے اور ایران کہتا ہے کہ میں جوہری توانائی کو میڈیسن ،بجلی اور دیگر ترقیاتی کاموں کیلئے استعمال کرونگا ،ایٹمی ہتھیار نہیں بناؤں گاتو اس پر بمباری کر دی جاتی ہے اس پر پابندیاں لگادی جاتی ہیں اس کو تیل نہیں بیچنے دیا جاتا تو یہ سراسر زیادتی ہے۔ اس وقت پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور انشاء اللّٰہ پاکستان سرخرو ہوگا پاکستانی قوم جو زندہ دل قوم ہے نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت لگاتے ہوئے اس کامیاب معاہدے پر اللّٰہ کا شکر ادا کرے گی جس دن یہ معاہدہ ہوگا اس دن قوم یوم تشکر منائے گی۔ آج اقوام عالم کو یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ کوئی جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور تمام اقوام عالم آپس میں بیٹھ کر ایک ایکارڈ کریںکہ ہم نےجنگ نہیں کرنی جو بھی تنازعات ہیں وہ مل بیٹھ کر حل کریں گے اور اس میں خاص طور پر انڈیا کو شامل کیا جائے جو ہر وقت پاکستان کیخلاف ناپاک عزائم میں ملوث رہتا ہے ۔ ہندوستان پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر ٹیبل پر مسئلہ کشمیر کو حل کرے پانی اور دیگر مسائل جو متنازع ہیں وہ ٹیبل پر بیٹھ کر دونوں حکومتیں حل کریں کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔