غزہ میں جاری صورتِ حال پر نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل ایک جانب فوجی تنصیبات کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے جبکہ شہری علاقوں کی تعمیرِ نو کا عمل تقریباً رک چکا ہے۔
الجزیرہ کے ڈیجیٹل انویسٹی گیشن یونٹ نے پلینٹ لیب اور سینٹینیل حب کی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لے کر یہ انکشاف کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر رفح میں جسے امریکی منصوبے کے تحت دوبارہ تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
فروری کے آخر سے مارچ کے وسط تک کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی علاقے بیت حانون اور رفح میں ملبہ ہٹانے کا کام رک گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس اسرائیلی فوج مستقل نوعیت کے فوجی ڈھانچے قائم کرنے میں مصروف ہے۔
تحقیقی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ غزہ سٹی کے علاقے شجاعیہ میں واقع المرتار (المنتار) پہاڑی اور جنوبی شہر خان یونس میں فوجی چوکیاں تیزی سے مضبوط کی جا رہی ہیں۔
وسطی غزہ میں المغازی کیمپ اور دیر البلح کے قریب خندقیں اور مٹی کی رکاوٹیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جبکہ جہور الدیک میں نئی سڑکیں قائم شدہ فوجی اڈوں کو نئے علاقوں سے جوڑ رہی ہیں، جو مستقل فوجی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ نتائج فارنسک آرکیٹیکچر کی 2025ء کی رپورٹ سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جس میں غزہ میں 48 اسرائیلی فوجی مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے 13 مبینہ جنگ بندی کے بعد قائم کیے گئے، یہ مقامات اب مستقل اڈوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں جن میں سڑکیں، واچ ٹاورز اور مواصلاتی نظام شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ورلڈ اکنامک فورم میں نیو رفح منصوبہ پیش کیا، جس میں بلند و بالا عمارتوں اور ریزورٹس کا تصور دیا گیا، تاہم یورو میڈ ہیومن رائٹس مونیٹر نے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ آبادی کی جبری منتقلی اور جغرافیائی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت غزہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے فلسطینیوں کو محدود علاقوں میں رکھا جائے گا، جہاں سخت سیکیورٹی چیکنگ کے بعد ہی بنیادی سہولتوں تک رسائی ممکن ہو گی۔
مزید برآں! جنگ بندی کی نام نہاد یلو لائن کو مستقل سرحد میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اسرائیلی حکام جس میں چیف آف اسٹاف ایال زامیر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز شامل ہیں، وہ پہلے ہی اس لائن کو نئی سرحد قرار دے چکے ہیں اور غزہ میں مستقل موجودگی کا عندیہ دے چکے ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم تشدد کا سلسلہ جاری ہے، غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 10 ہزار تک پہنچ چکی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی پر پابندیوں کے باعث زمینی حقائق کی نگرانی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے لیے صورتِ حال کا مکمل جائزہ لینا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔