اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑنے پر برہم ہو گئے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نیتن یاہو نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل برداشت اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام کی اقدار کو اہمیت دیتا ہے، ہمارے ملک میں تمام مذاہب کو فروغ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ ایک اسرائیلی فوجی نے جنوبی لبنان میں ایک کیتھولک مذہبی علامت کو نقصان پہنچایا، میں اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی حکام اس معاملے کی فوجداری تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمے دار کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے کی تحقیقات ناردرن کمانڈ کے تحت کی جا رہی ہیں اور اسے ضابطۂ کار کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔