• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بالآخر ایک تناؤ ختم ہوا اور جنگ بندی کے خاتمے کے آخری مرحلے پر پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے مزید توسیع کر دی۔ یہ توسیع بظاہر غیر معینہ ہے اور اسے اس شرط کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کہ جب تک ایران اپنی تجاویز پیش کرتا ہے اور ان پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، امریکہ حملہ نہیں کرئیگا۔ بلاشبہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسے ماحول میں مذاکرات واقعی کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں؟مسئلہ محض مذاکرات کا نہیں بلکہ ان کے ماحول کا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ جب ایک فریق میز پر بیٹھا ہو اور دوسرا مسلسل طاقت کے استعمال کی بات کر رہا ہو تو یہ عمل اعتماد سازی کے بجائے بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ خود امریکہ کی اپنی تاریخ اس کی مثال پیش کرتی ہے۔ صدر جمی کارٹر نے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کے دوران بارہ دن تک صبر، تحمل اور یکسوئی کے ساتھ فریقین کو ایک جگہ بٹھائے رکھا۔ وہاں نہ دھمکیوں کا شور تھا اور نہ فتح کے دعوے، بلکہ ایک سنجیدہ کوشش تھی کہ مستقل امن کی بنیاد رکھی جائے۔

اس کے برعکس موجودہ صورتحال میں لب و لہجہ ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ جب امریکی قیادت یہ کہتی ہے کہ ’’ہم نے جنگ جیت لی ہے‘‘تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے کی شرائط طے کرنےکیلئے ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی خودمختار ریاست کیسے سنجیدہ مذاکرات کر سکتی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ آخر وہ کون سی جنگ تھی جو جیت لی گئی؟ اگر چند دنوں کی کارروائی ایک طویل تنازع میں بدل جائے اور اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو اسے فتح کہنا محض سیاسی بیانیہ ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں۔مزید یہ کہ جن کامیابیوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، ان کی نوعیت بھی قابلِ غور ہے۔ اگر انفراسٹرکچر، تعلیمی اداروں اور شہری سہولیات کی تباہی کو فتح قرار دیا جائے تو یہ بین الاقوامی قانون کی رو سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا یا بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اکثر جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ حقائق سے ہوتا ہے اور یہ حقائق مستقبل میں کسی بھی احتساب کا حصہ بن سکتے ہیں۔مذاکراتی عمل کو سب سے زیادہ نقصان ان اقدامات سے پہنچا ہے جو خود مذاکرات کے دوران کیے گئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں خلل، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ جیسے اقدامات نہ صرف کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ ایک فریق دباؤ کے ذریعے نتائج حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایسے اقدامات مذاکراتی عمل کے منافی سمجھے جاتے ہیں۔امریکی داخلی سیاست کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف بھاری مالی وسائل مختلف تنازعات میں صرف کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف عوامی سطح پر اس کی توجیہ پیش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جب ٹیکس دہندگان کے وسائل بڑے پیمانے پر بیرونی محاذوں پر خرچ ہوں تو سوالات اٹھنا فطری امر ہے کہ ان پالیسیوں کا حتمی مقصد کیا ہے اور ان سے کیا حاصل ہوا۔اب اگر ایران کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے کئی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق قابلِ بحث ضرور ہیں مگر یکسر ناقابلِ قبول نہیں۔ پرامن مقاصدکیلئے یورینیم افزودگی کا حق، عالمی معاہدات کے دائرے میں رہتے ہوئے، ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اسی طرح اپنی بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کی بحالی یا منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے مطالبات بھی قانونی اور معاشی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر کسی جنگ کو غیر ضروری یا غیر قانونی قرار دیا جائے تو ہرجانے کا سوال بھی عالمی قانون میں موجود ہے، اگرچہ اس کا تعین پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مذاکرات کو کس نیت اور کس انداز سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اگر مقصد واقعی ایک پائیدار حل ہے تو اس کیلئے باہمی احترام، برداشت اور حقیقت پسندی ضروری ہے۔ لیکن اگر مذاکرات کو محض دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہی تاثر ابھرتا ہے کہ بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ایرانی معاشرے کے حوالے سے بھی ایک حقیقت سامنے آئی ہے کہ بیرونی دباؤ اکثر داخلی اتحاد کو بڑھا دیتا ہے۔ تاریخ میں کئی مثالیں موجود ہیں جہاں سخت پابندیوں اور دھمکیوں نے قوموں کو جھکانے کے بجائے مزید مضبوط کیا۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کے ذریعے فوری نتائج حاصل کرنے کی سوچ اکثر طویل المدت پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔ آج دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں طاقت کے استعمال کو ہی اولین ذریعہ سمجھتی رہیں تو عالمی امن ایک خواب بن کر رہ جائیگا۔ اس کے برعکس اگر سنجیدہ اور باوقار مذاکرات کو ترجیح دی جائے تو پیچیدہ ترین تنازعات کا حل بھی ممکن ہے۔ امریکہ کیلئے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرے۔بصورتِ دیگر، تاریخ میں یہ دور ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائیگاجس میں موقع موجود تھا مگر اسے ضائع کر دیا گیا۔ امن کے دعوے اور عملی اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہی اصل امتحان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔

تازہ ترین