• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ 96 سال تک جیا۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ لوگ105سال کے ہوکر بھی کچھ نہیں  سیکھتے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ ہمیشہ کم کھایا، زیادہ سویا، ورزش کی، نہ کوئی عشق کیا، نہ کام کیا، جو ملا وہ کھالیا اور مطمئن رہا۔ مگر جس شخص کے بارے میں لکھنے لگی ہوں اس نے بہت کمایا، بہت خرچ کیا بہت عشق کیے۔ وہ اپنے حلقہ دام خیال میں سب کچھ جانتا، سمجھتا۔ وہ انکار کرنا، ارادہ کرنا، انحراف کرنا، محسوس کرنا، ان سب باتوں کو انسانی وجود کا حصہ سمجھتا تھا۔ ان 96برسوں میں سے دو سال کم کردو کہ وہ ہوش میں نہیں تھا اور پھر میری بات سنو۔ وہ عالمی سطح کا وکیل تھا۔ وہ ا پنی ذاتی تربیت سے بہت بڑا فوٹو گرافر تھا۔ اس نے پورا اسٹوڈیو بنایا ہوا تھاوہ خود تصویریں ڈویلپ کرتا اور سُکھاتا بھی تھا۔ اسکے پاس غریب لڑکیاں ڈرتی ڈرتی فوٹو گرافی سیکھنےآتی تھیں انکو وہ کام سکھاتا، فلسفۂ زندگی سمجھاتا۔ گھر کے کسی کونے میں رہنے کیلئے جگہ تو اس نے بہت سے سازندوں، موسیقاروں اور سُروں میں چھپی آوازوں کو دی، اوپر کے ہال میں سنتا سکھاتا اور انکے سازوں ،سروں، گائیگی میں اضافہ کرتا۔ اس نے اپنی بیٹیوں کو بھی گوئیے بنانے کی محنت اسی طرح کی جیسی مہناز کی والدہ اور خود مہناز کو سُر ساگر میں ایسے اتارا کہ وہ دونوں سروں میں ڈوبی دنیا سے چلی گئیں۔ سکھاتے سکھاتے اس نے ستار کی طرح کا سُر منڈل بنایا۔ اور اپنی بیٹی کو اسکے تاروں کو چھیڑنے کی تمیز اور آداب سکھائے وہ اب بھی بجاتی ہے۔ اس نے ٹیکس دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ سچا تھا۔ یہ ادارے ٹیکس کے نام پر لوگوں کو لوٹتے اور غریبوں کا کوئی بھلا نہیں کرتے۔ اس نےٹیکس سے دس گنی رقم سے سنجن نگر اسکول بنایا۔ وہاں غریبوں کے بچوںکیلئے یونیفارم، خود بنایا ہوا سلیبس، رہائش اور پڑھی لکھی امیروں کے گھروں میں بیکار بیٹھی خواتین کو بچوں کو اولاً رضاکارانہ پڑھانےکی طرف راغب کیا، اسکول میں بچوں کو تہذیب، گائیکی اور گفتگو کے آداب سکھائے جاتے اور پھر بڑوں کا ادب اور تاریخی ورثے اور شخصیات کو سمجھنے کیلئے، یہ باتیں کبھی کہانی کی طرح، کبھی اپنی داستان بناکر، کبھی گانا، کبھی رقص کے انداز اور کبھی تھیٹر دکھاکے پرانے قصے، کہاوتیں، لوک شاعری اور ہنسنا وہ بھی بے اختیار ہنسنا، ہر روز وہ ساری اساتذہ اپنا آپ بھول کر بچوں میں اتنی محو ہوتیں کہ کسی قسم کی تنخواہ بھی نہیں لیتی تھیں کہ وہ خود کھاتے پیتے گھرانوں سے تھیں۔ سنجن اسکول اب تک دائم و قائم ہے ( اللّٰہ کرے رہے)۔

میں کس کا ذکر کررہی ہوں، وہ شخص جسکی والدہ بڑے کلا سیکی ادیب چوہدری ر دولوی کی بیٹی تھیں۔ بہت شائستہ گھرانے سے تھیں۔ پڑھی لکھی نوجوان لڑکیوں اور دیگر فنون سے وابستہ خواتین کو بلاکر انکی اپنی یاد داشتیں سنتیںاور اپنے ابا اور بچپن کی باتیں بہت نرم لہجے میں سناتیں۔ انکے ساتھ بیٹھ کر اور سارے لوازمات مع پاندان رکھ کر میں نے اور شیریں پاشا نے ایک آدھے گھنٹے کی فلم بنائی۔ جو باقاعدہ علم و ادب سے و ابستہ لوگوں کو دکھائی بھی گئی۔

عجیب اور دلچسپ باتونی شخصیت کہ اگر زہرہ نگاہ کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو کلاسیکی راگ راگنیوں کی باتیں، مصور حسین صاحب کے ساتھ بیٹھے ہیں تو ان سے یادیں سنتے اور انکو پینٹ کرنے کیلئے ماحول بھی بناکر دیتے کہ وہ ایک زمانے میں ایک فلم ایکٹریس کو اتنا پسند کرتے تھے کہ اسکے پورٹریٹ کے علاوہ، اس پر فلم بھی بنائی ۔ پھر اس کھیل سے باز آئے تو حسین صاحب نے ہندو، دیوی، دیوتاؤں کے پورٹریٹ اپنے انداز میں بنائے۔

میں96 سالہ شخص پہ لکھتے لکھتے حسین صاحب کی مصوری پہ اَٹک گئی، اصل میں وہ باغ و بہار شخص جب فیض صاحب اور نور جہاں کی صدارت کرتا تو ہم چھوٹے یعنی سلیمہ ہاشمی، معصومہ حسن، شیریں پاشا اور بے انتہا دوستوں کو بھی بلاتا۔ فیض صاحب 40 سال ہوئے ہمیں چھوڑ گئے، مگر یہ شخص ہمیں اس لئے یاد رکھتا تھا کہ ہم بھی اب بزرگوں میں شمار ہونے لگے تھے۔

اس شخص نے کسی جنون میں آکے پہلی شادی کے بچوں میں نالائقی اور دولت آشنائی دیکھی تو ایک اور شادی کرلی۔ مگر دونوں شادیوں سے ہونے والی بیٹیوں نے بھی اس سےبے انتہا پیار کیا اور اس شخص نے بھی ایک بیٹی کو نیا ساز سربہار بجانا اور گانا سکھایا دوسری بیٹیاں، سب اس سے دوستوں کی طرح ملتی تھیں۔ ہماری دوست مجھ سے کم عمر نسیم زہرہ بھی اپنے باپ کو بہت پیار کرتی تھی وہ شخص دو سال سے ڈیمنشیا میں مبتلا بستر پر پڑا تھا۔ بہرحال اب مجھے انکا جیل جانا یاد آرہا ہے۔ وہ کس لیے، مجھے اپنا ہی ایک مصرعہ یاد آرہا ہے وہ یوں  کہ’’یہاںسازشیں تو بہت ہوئیں کوئی انقلاب نہ آسکا‘‘۔ زمانہ ہے ضیاء الحق کا میں اس زمانے میں اقبال ٹاؤن میں رہتی تھی۔ ایک شام بہت گولیاں چلنے کی آواز ملتان روڈ سے آرہی تھی۔ اگلے دن پتہ چلا کہ اس شخص نے ایسی سازش کی تھی کہ کسی شام اٹک جیل بھیج دیا گیا۔ مقدمے تو چلتے ہی لمبے ہیں۔ یہاں دونوں بیویوں کے علاوہ گاؤں سے فوٹو گرافر رشیدہ، خود بسیں بدلتی ہوئی، محبت کی ماری، جیل ہر ہفتے جاتی تھی۔ جیل میں عشق اور سیاست بالکل یاد تھے۔ جب انکے لئے سزا سنانے کا دن آیا۔اسی دن انہوں نے فوٹوگرافر لڑکی سے شادی کی سب حیران رہ گئے مگر وہ تو ہر کام چونکا دینے والا کرتا تھا۔

تازہ ترین