ایرانی قیادت نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران میں قیادت کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور واضح کیا ہے کہ ملک مکمل طور پر متحد ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزکشیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بیانات جاری کرتے ہوئے امریکی مؤقف کو مسترد کر دیا۔
ان رہنماؤں نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر ایک مشترکہ پیغام جاری کیا جس میں کہا ہے کہ ایران میں نہ کوئی انتہا پسند ہے نہ اعتدال پسند، ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں اور مکمل اتحاد کے ساتھ سپریم لیڈر کی قیادت میں دشمن کو اس کی جارحیت پر پچھتانے پر مجبور کریں گے۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اختلافات کی سر زمین نہیں بلکہ اتحاد کا قلعہ ہے، ہم ایک قوم اور ایک روح ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جو اپنے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد عہدے پر فائز ہوئے، تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے، رپورٹس کے مطابق وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہوئے تھے، تاہم ذہنی طور پر متحرک ہیں۔
امریکی حکام اور صدر ٹرمپ گزشتہ دنوں سے یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ ایرانی قیادت کے اندر شدید اختلافات ہیں اور ملک میں اعتدال پسند اور سخت گیر دھڑوں کے درمیان کشمکش جاری ہے، تاہم تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ایران نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات نہ ہونے کی وجہ امریکی پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ہے، جس کے باعث سفارتی عمل تعطل کا شکار ہے۔