یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں جوہری ماہرین کی موجودگی لازمی ہونی چاہیے، بصورتِ دیگر مذاکرات کے نتیجے میں ایک زیادہ خطرناک ایران سامنے آ سکتا ہے۔
قبرص میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے غیر رسمی سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت صرف جوہری امور تک محدود رہی اور مذاکرات کی میز پر ماہرین موجود نہ ہوئے تو نتیجہ کمزور معاہدے کی صورت میں نکلے گا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر گفتگو سے قبل بیان دیتے ہوئے یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ نے کہا کہ ایسی صورت میں جو معاہدہ سامنے آئے گا وہ سابقہ جوہری معاہدے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) سے بھی زیادہ کمزور ہو گا۔
کایا کالاس نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں ناصرف جوہری پروگرام بلکہ خطے میں اس کے کردار، میزائل پروگرام، پراکسی گروہوں کی حمایت اور یورپ میں سائبر و ہائبرڈ سرگرمیوں جیسے معاملات کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کی صورت میں خطے میں خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں اور ایران ایک زیادہ غیر مستحکم فریق بن کر ابھر سکتا ہے۔