• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر میں مر جاؤں تو یہ خودکشی نہیں ہو گی: امریکی سائنسدان کے آخری پیغامات نے معمہ گہرا کر دیا

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

امریکا میں ایک خاتون سائنسدان کی پراسرار موت سے قبل بھیجے گئے پیغامات نے اعلیٰ سطح کے سائنسدانوں کی اموات اور گمشدگیوں سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

34 سالہ محقق ایمی ایسکریج جو اینٹی گریویٹی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی تھیں، 11 جون 2022ء کو گولی لگنے سے ہلاک ہوئیں، جسے حکام نے بظاہر خودکشی قرار دیا، تاہم ان کے قریبی دوست کو بھیجے گئے پیغامات نے اس مؤقف پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

برطانوی سابق پیرا ٹروپر اور انٹیلی جنس افسر فرانک مل برن نے ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے کچھ حصے جاری کیے ہیں، جن میں ایک پیغام میں ایمی نے لکھا کہ اگر ان کی موت خودکشی یا حادثہ قرار دی جائے تو اسے مشکوک سمجھا جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمی اس بات پر زور دیتی رہی تھیں کہ وہ کبھی خودکشی نہیں کریں گی، انہوں نے ایک اور پیغام میں خبردار کیا تھا کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔

ایمی ایسکریج نے اپنی لیبارٹری قائم کر رکھی تھی اور وہ کششِ ثقل کو کنٹرول یا ختم کرنے سے متعلق تجرباتی تحقیق پر کام کر رہی تھیں، جسے خلائی سفر اور توانائی کے شعبے میں انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب امریکی حکومت بشمول وائٹ ہاؤس نے حالیہ دنوں میں 11 سائنسدانوں کی اموات اور گمشدگیوں کے پراسرار حالات کی مکمل تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات ایف بی آئی کر رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا ان واقعات کے پیچھے کوئی منظم پیٹرن موجود ہے یا یہ الگ الگ واقعات ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید