لبنان کے وزیرِ خارجہ یوسف راجی نے کہا ہے کہ اگر مقصد جنگ کا خاتمہ اور علاقے کی واپسی ہو تو اسرائیل سے مذاکرات کرنے میں کوئی شرم نہیں۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھنا غلط ہے، بلکہ یہ قومی مفاد کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہیں۔
یوسف راجی نے کہا کہ لبنان کسی بھی بیرونی طاقت کا تابع نہیں اور نہ ہی کسی محور کے ہاتھ میں ایک کارڈ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لبنان کو کمزور یا مکمل طور پر بے بس ملک کے طور پر پیش کرنا بھی غلط ہے اور اسی طرح اسے مکمل شکست خوردہ سمجھنا بھی درست نہیں۔
یوسف راجی نے لبنان کی سیاسی و عسکری صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے حزب اللّٰہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ گروہ بعض علاقوں اور شہریوں کی تقدیر کو ایسے مقاصد کے لیے داؤ پر لگا رہا ہے جو قومی مفاد یا جنوبی لبنان کے عوام کے مسائل سے متعلق نہیں۔
لبنانی وزیرِ خارجہ نے ایران کے حوالے سے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب لبنان کا راستہ ایران سے الگ ہو چکا ہے اور بیروت کے فیصلے تہران کی مذاکراتی صورتِ حال کے تابع نہیں رہے۔