امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر ایران کے خلاف جاری جنگ کی حکمتِ عملی پر واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
اینڈریا ڈریسی جو اٹلی کی امریکن یونیورسٹی آف روم میں عالمی سیاست کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ امریکی حکومت مسلسل اپنی حکمتِ عملی اور اہداف تبدیل کر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونی سطح پر ہم آہنگی موجود نہیں۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سوشل میڈیا کے ذریعے طاقت کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن حقیقت میں پینٹاگون اور دفاعی اداروں میں اعلیٰ سطح پر برطرفیوں اور اختلافات کا سلسلہ جاری ہے۔
اینڈریا ڈریسی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے یہ جنگ ممکنہ طور پر اسٹریٹجک غلط اندازے کی بنیاد پر شروع کی اور اب صورتِ حال ایک ایسے تعطل میں پہنچ چکی ہے جہاں واشنگٹن کسی راستے کی تلاش میں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کی کوششیں اور سفارتی راستے کھولنے کی امید مثبت پیش رفت ہیں، تاہم صورتِ حال اب بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ عالمی معیشت اس تنازع کے اثرات سے دباؤ کا شکار ہے اور مکمل فوجی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔