• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ صبح میری زندگی کی سب سے رنگین صبحوں میں سے ایک تھی، نہ جانے کیوں مجھے کائنات کا ہر رنگ پہلے سے زیادہ گہرا اور جاندار محسوس ہو رہا تھا۔ اسپتال کے شعبہء چشم کی انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے میں اس سرشاری کی کیفیت میں تھا جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

میرے ہاتھ میں موجود فائل میں میرا بطور لیکچرر تقرر نامہ اور دیگر ٹیسٹ رپورٹس کسی فتح نامے کی طرح موجود تھیں۔ میں خوش تھا کہ اب میں باقاعدہ طور پر اس زبان کا سفیر بننے والا ہوں جس کے لفظوں سے میں نے نئے نئے منظر تراشے تھے۔

شعبہء چشم کے اس چھوٹے سے کمرے میں پہلے میری بینائی کا روایتی معائنہ ہوا، جہاں دیوار پر لکھے حروفِ تہجی میں نے بڑی آسانی سے پڑھ لیے۔ ڈاکٹر نے اطمینان کا اظہار کیا اور پھر میز پر پڑی وہ مخصوص کتاب کھولی جس کے ہر صفحے پر رنگ برنگے نقطوں سے بنے طرح طرح کے دائرے تھے اور ان کے درمیان مختلف ہندسے اور ڈیزائن چھپے ہوئے تھے۔

ڈاکٹرنے سپاٹ لہجے میں پہلا صفحہ پلٹتے ہوئے پوچھا کہ اس دائرے میں کیا لکھا ہے۔ میری نظریں ان رنگین نقطوں کے ہجوم میں الجھ کر رہ گئیں۔ کتنی عجیب ستم ظریفی تھی کہ جو آنکھیں میر کے کلام میں رچی ’’چشمِ تر‘‘ کی نمی اور غالب کے افکار میں رقص کرتی ’’شوخیِ تحریر‘‘ کے ہزاروں رنگ ایک ہی نظر میں پہچان لیتی تھیں، وہ آج ان معمولی لکیروں کے جال میں مات کھا گئیں۔ 

میں جو میر کے سوز و گداز سے اُبھرنے والے مدھم ہیولوں اور غالب کی معانی آفرینی سے پھوٹنے والی دھنک کا پارکھ تھا، آج رنگوں کے ایک سادہ سے امتحان میں ناکام ہو رہا تھا۔ میں نے دوبارہ ان رنگین شکلوں میں پوشیدہ پہیلیاں بوجھنے کی ناکام کوشش کی۔

ڈاکٹر نے اگلا صفحہ پلٹا، وہاں ایک اور رنگین تصویر تھی جس میں رنگوں کے امتزاج سے ریچھ، لومڑی، ہرن اور خرگوش کے ایسے مخصوص ڈیزائن بنے ہوئے تھے، جو میرے لیے ناپید تھے۔ میرے ساتھ کھڑے ایک آدمی نے بڑی آسانی سے ان جانوروں کو پہچان لیا، جبکہ مجھے چھوٹے چھوٹے رنگین نقطوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا۔ یہ کیا؟ مجھے یکدم محسوس ہوا جیسے اس لمحے میں خود بے رنگ ہو کر رہ گیا ہوں۔

میں نے ہچکچاتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجھے یہاں صرف رنگوں کا ایک بے ترتیب ہجوم نظر آ رہا ہے، کوئی ہندسہ یا شکل نہیں۔

ڈاکٹر نے مجھے بغور دیکھا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس کو سنتے ہی مجھے کچھ لمحوں کے لیے اپنی قوتِ سماعت بتدریج کم ہوتی محسوس ہوئی۔ مجھ پر یہ راز پہلی بار منکشف ہوا کہ میری آنکھیں سرخ اور سبز رنگ کی باہمی آمیزش کو صحیح طور پر پہچاننے سے قاصر ہیں۔ 

مجھے معلوم ہوا کہ جہاں سرخ اور سبز رنگ کے مختلف شیڈز ایک دوسرے کے پہلو میں رکھے ہوں، وہاں میری بصارت کسی اندھی گلی میں جا نکلتی ہے۔ جہاں دنیا کو دو واضح رنگوں کا ٹکراؤ نظر آتا ہے، وہاں مجھے صرف ایک گڈ مڈ اور بے نام سی دھند دکھائی دیتی ہے، جیسے کسی نے میری کائنات کے بنیادی رنگوں کی سرحدیں ہی مٹا دی ہوں۔ اس کڑوے انکشاف نے مجھے برسوں پہلے کہے گئے اپنے ہی اس شعر کی تپش میں جھلسا دیا، جو نہ جانے میں نے کس لاشعوری کیفیت میں کہہ دیا تھا:

دوسرے رنگ نظر ہی نہیں آتے مجھ کو

زرد ایسا ہوں کہ ہر چیز ہری لگتی ہے

مجھے لگا جیسے قدرت نے میرے سامنے سے رنگوں کا وہ ڈبہ ہی اٹھا لیا ہو جس کے سہارے میں نے اپنے خوابوں کی پینٹنگ مکمل کرنی تھی۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب مصوری کے شوق میں، ہم جماعت لڑکوں کے مقابلے میں خاصے مختلف کلر شیڈز استعمال کیا کرتا تھا۔ مجھے پائلٹ بننے کا وہ ادھورا جنون یاد آیا جس کے لیے قدرت نے شاید پہلے ہی رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں کیونکہ وہاں رنگوں کی پہچان زندگی اور موت کا فیصلہ کرتی ہے۔

مجھے پینٹ کوٹ سلوانے کے لیے کپڑا پسند کرنے کی وہ رات یاد آئی جب دکاندار کے سامنے میں گہرے سرمئی اور گہرے نیلے رنگ کو گڈ مڈ کر رہا تھا اور میرا بھائی ٹوکتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ "تمہیں کیا ہو گیا ہے، یہ نیلا نہیں سرمئی ہے!

میری یادوں کے دریچوں سے وہ گہری شام بھی جھانکی جب میں نے مصنوعی روشنی کے دھوکے میں گہرے رنگ کی جرابیں خریدیں اور صبح کے اجالے میں انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ رات کا سچ سورج کی پہلی کرن پڑتے ہی بدل چکا تھا۔ بصارت کے اس تماشے میں میری آنکھیں ہمیشہ سے ٹھوکر کھاتی آئی تھیں، جیسے زندگی کی حقیقتیں بھی روشنی بدلنے سے اپنا چہرہ بدل لیتی ہوں۔

میں اپنی شاعری میں جن ان دیکھے زاویوں کو تلاش کرتا تھا، آج وہ سب ایک کربناک سوال بن کر میرے سامنے کھڑے تھے۔ میں جن منظروں کی مصوری لفظوں سے کرتا تھا، کیا وہ حقیقت میں ویسے تھے ہی نہیں؟ کیا میری تخیلاتی کائنات کا سارا حسن ایک دھوکا تھا؟

میں یادوں اور چیختے چلاتے سوالوں کے ہجوم کے بیچ سے بمشکل اپنی جگہ بناتا ہوا باہر آ گیا اور بے اختیار سر اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھا اور پھر پیروں تلے بچھی سبز گھاس پر نگاہ ڈالی۔ ایک عجیب سی وحشت نے دل کو اپنی مٹھی میں بھینچ لیا۔ کیا یہ آسمان اتنا ہی نیلا ہے جتنا مجھے دکھائی دے رہا ہے؟ کیا یہ گھاس واقعی اتنی ہی سبز ہے جتنا میں اسے محسوس کر رہا ہوں؟

آج مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں ایک ایسی بستی کا شاعر ہوں جس کے رنگ باقی دنیا سے جدا ہیں۔ میں وہ لیکچرر ہوں جو اگلے تیس برس تک اپنے طلبہ کو انسان، تاریخ، معاشرے اور کائنات کے مختلف رنگوں سے آشنا کرے گا، مگر خود اپنی آنکھوں میں ایک ادھوری اور کم رنگین کائنات کا دکھ لیے جیے گا۔

میں نے غیر ارادی طور پر اپنی میڈیکل رپورٹس کو الٹتے پلٹتے ہوئے اپنے تقرر نامے کو دوبارہ دیکھا۔ اردو کا لیکچرر!۔۔۔۔ مجھے محسوس ہوا جیسے خدائے رنگ و بو نے میرے کان میں سرگوشی کی ہو کہ ہم نے تم سے وہ رنگ چھین لیے جو سب کو نظر آتے ہیں، تاکہ تم وہ رنگ ڈھونڈ سکو جو صرف ’’تمہیں‘‘نظر آتے ہیں۔

پھر جیسے یکدم میرے شانوں سے کوئی بوجھ کم ہوتا چلا گیا۔

ہاں! میری دنیا میں آسمان کا نیلا ہونا ضروری نہیں، بلکہ اس کا وسیع ہونا اہم ہے۔ میں اپنے شاگردوں کو یہ سکھاؤں گا کہ سچائی محض بصارت کا دھوکا بھی ہو سکتی ہے، ایک ہی منظر ہر دیکھنے والے کے لیے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔

میں نے سوچا کہ زبان تو خود رنگوں سے ماورا ہوتی ہے۔ لفظوں کا کوئی اپنا رنگ نہیں ہوتا، وہ تو شاعر کے تخیل کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ اگر میری آنکھیں کم روشنی میں گہرے نیلے اور گہرے سرمئی کا فرق نہیں کر پاتیں، تو کیا ہوا؟ ’’اداسی‘‘ کا رنگ تو سب کے لیے ایک جیسا ہوتا ہے۔ ’’محبت‘‘ کی خوشبو تو رنگوں کی محتاج نہیں ہوتی۔

مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ سچائی کا کوئی ایک رنگ نہیں ہوتا۔ رنگ تو محض لباس ہیں، اصل حقیقت تو وہ جوہر ہے جو ان رنگوں کے پیچھے سانس لیتا ہے۔ سرخ رنگ جسے دنیا انقلاب، خطرے یا محبت کی علامت کہتی ہے، اگر میری آنکھ میں وہ مخصوص چمک پیدا نہیں کرتا، تو کیا ہوا؟ 

’’قربانی‘‘ کی سرخی تو میرے اندر اب بھی ویسے ہی معتبر ہے۔ سبز رنگ جسے دنیا زندگی اور نمو سے منسوب کرتی ہے، اگر وہ میری آنکھوں میں کسی اور رنگ سے گڈ مڈ ہو جاتا ہے، تو اس سے ’’امید‘‘ کے اس نقش پر کوئی آنچ نہیں آتی جو فطرت کا اصل مقصود ہے۔

میں تو کائنات کے ان دیکھے رنگوں کا سراغ لگا سکتا ہوں جو کسی مادی عدسے کی قید میں نہیں آتے۔

میں نے اپنے چشمے کو صاف کر کے دوبارہ پہنا اور اپنی فائل سینے سے لگاتا ہوا ہسپتال کے گیٹ کی جانب بڑھا۔ اب میں ایک ادھورا انسان نہیں تھا، ایک ایسی بے مثال سلطنت کا واحد وارث تھا جس کے چھپے ہوئے رنگوں اور انوکھے زاویوں کی پہچان ابھی دنیا کو کرنا باقی تھی۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید