• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں منعقد ہونے والا ساکنان شہر قائد کا عالمی مشاعرہ اب ایک روایت بن گیا ہے۔ ایسی تابندہ روایت، جسے ملک بھر میں ہی نہیں، دنیا کی تمام اردو بستیوں میں پہچانا جاتا ہے۔

اس شان دار روایت کا آغاز اظہر عباس ہاشمی نے کیا تھا۔ 1989 میں ساکنان شہر قائد کا پہلا مشاعرہ منعقد ہوا تھا۔ گزشتہ تین عشروں میں اس مشاعرے کو جاری رکھنے کے لیے بہت لوگوں نے محنت کی، پہلے جو کام اظہر عباس ہاشمی، سید صفوان اللہ، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، اوران کے ساتھی کرتے تھے، اب وہ کام محمود احمد خان اور ان کے ساتھی، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کی سرپرستی میں کر رہے ہیں۔

اس سال یہ مشاعرہ ایک ایسے وقت منعقد کیا گیا جب پورے خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے اسی مناسبت سے عالمی مشاعرے کو 'مشاعرہ برائے امن عالم' کا نام دیا گیا۔ مشاعرے میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے اہم شعرائے کرام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، اور دیگر ممالک کے شعراء نے بھی شرکت کی۔

کراچی کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والے اس مشاعرے کے حاضرین کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ مقررہ وقت سے پہلے ہی ہزاروں لوگ مشاعرہ گاہ پہنچ چکے تھے، شاید اس کا سبب یہ تھا کہ، نہایت منظم انداز میں تشہیری مہم چلائی گئی تھی۔ ٹی وی چینلز، اخبارات، سوشل میڈیا اور آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ کے ذریعے کراچی کی بیشتر آبادی کو بتا دیا گیا تھا کہ یہ مشاعرہ کب منعقد ہونے والا ہے۔

مشاعرے کی صدارت اردو کے ممتاز اور معتبر شاعر افتخار عارف نے کی،جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر، وجیہہ ثانی، وسیم بادامی، آغا شیرازی اور فہد ولی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔رات نو بجے سے شروع ہونے والا مشاعرہ بغیر کسی وقفے کے صبح پانچ بجے تک جاری رہا اور پنڈال میں آخری وقت تک لوگ موجود بھی رہے۔ ہر آنے والے شاعر کا بھرپور انداز میں تعارف کرایا گیا۔

مشاعرے کے مہمان خصوصی گورنر سندھ سید نہال ہاشمی تھے۔ انہوں نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعروں نے کراچی کی تہذیبی زندگی کو فعال رکھا ہوا ہے۔ بلاشبہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا مشاعرہ ہے، جس میں سامعین کی تعداد اتنی زیادہ دیکھ کرحیرانی ہوتی ہے۔

ساکنان شہر قائد کے زیر اہتمام ’’عالمی مشاعرہ برائے امن ‘‘میں حاضرین
ساکنان شہر قائد کے زیر اہتمام ’’عالمی مشاعرہ برائے امن ‘‘میں حاضرین

محمود احمد خان نے مشکل حالات میں یہ مشاعرہ منعقد کیا ہے لیکن وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی محنت رنگ لائی۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ، ہزاروں سامعین کی ادب نوازی اور شعر فہمی قابل داد ہے کہ رات بیت جانے کے باوجود سارا پنڈال داد و تحسین سے گونج رہا ہے۔

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں ساکنان شہر قائد کے بنیاد گزاروں میں شامل ہوں۔ اگر اظہر عباس ہاشمی کی وفات کے بعد نئے لوگ سامنے نہ آتے تو یہ قدیم روایت اب تک دم توڑ چکی ہوتی۔ محمود احمد خان نے جو ٹیم تیار کی ہے وہ اپنے فرائض بہت عمدگی سے انجام دے رہی ہے۔

ساکنان شہر قائد کے روح رواں محمود احمد خان نے اس سے قبل خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ہمارا قافلہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کی سرپرستی میں رواں دواں ہے۔ ہم اپنے بزرگوں کی روایتوں کے امین ہیں، ان کے نام کو زندہ رکھنا اور ان کے کام کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعروں کا تسلسل برقرار رکھنا ہم سب کا ایک خواب تھا جو اللہ کے فضل و کرم سے اب حقیقت کا روپ اختیار کر گیا ہے۔

مشاعرے میں جن محترم شعرا نے اپنا کلام سنایا ان میں صاحب صدر افتخار عارف کے علاوہ پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، محمود شام، انور شعور، نصرت صدیقی، عباس تابش، شکیل جاذب، سید وصی شاہ، خالد عرفان، جاوید صبا، ڈاکٹر نور امروہوی، ڈاکٹر اقبال پیرزادہ، ناصرہ زبیری، فاضل جمیلی، خالد معین، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر، سبین سیف، اقبال خاور، سہیل احمد، مظہر ہانی، افضل خان، پیرزادہ سلمان، تابش زیدی، عظمی جون، آئرین فرحت، ڈاکٹر رباب تبسم، فائقہ گل صاحبزادہ، وجیہہ ثانی، منصور ساحر، دانیال اسماعیل، رضوان زیدی، فہد ولی، کامران عشرت، تاجور شکیل، شاہ فہد، حیدر رضوی، نازیہ غوث، مدحت عباس، قدسیہ زیدی، رخشندہ خان اور ولید احمد شامل تھے۔

عالمی مشاعرے میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں سینیٹر سرمد علی، سابق سینیٹر عبد الحسیب خان، پروفیسر اعجاز احمد فاروقی، ڈاکٹر سیف الرحمن، مرزا اختیار بیگ، مرزا اشتیاق بیگ، حیدر عباس رضوی، واثق نعیم، ندیم ظفر صدیقی، جمال اظہر شامل تھے۔

صدر مشاعرہ افتخار عارف کے علاوہ چند شعرا کے کلام سے چیدہ چیدہ انتخاب ملاحظہ کریں۔

افتخار عارف

محافظِ روشِ رفتگاں کوئی نہیں ہے

جہاں کا میں ہوں میرا اب وہاں کوئی نہیں ہے

ستارگاں سے جو پوچھا کہ اُس طرف کیا ہے

چمک کے بولے کہ اے جانِ جاں کوئی نہیں ہے

گذشتگانِ محبت کے خواب لکھنے کو

ابھی تو میں ہوں مگر بعد ازاں کوئی نہیں ہے

…٭…٭…٭…

حلقہ بگوشوں عرض گزاروں کے سامنے

یہ تمکنت یہ زعمِ کرم اور کتنی دیر

شام آرہی ہے ڈوبتا سورج بتائے گا

تم اور کتنی دیر ہو ہم اور کتنی دیر

…٭…٭…٭…

حسینؓ تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا

مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا

شرف کے شہر میں ہر بام و دَر حسینؓ کا ہے

زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؓ کا ہے

…٭…٭…٭…

محمود شام

رنگ پر آئی ہوئی بزم پگھلتے ہوئے لوگ

اپنی تحلیل کے منظر پہ مچلتے ہوئے لوگ

اپنے جغرافیے کے جبر سے لرزاں تاریخ

اپنی تہذیب کو مسلک سے کچلتے ہوئے لوگ

…٭…٭…٭…

پروفیسر سحر انصاری

اپنے خوں سے جو ہم ایک شمع جلائے ہوئے ہیں

شب پرستوں پہ قیامت بھی تو ڈھائے ہوئے ہیں

جانے کیوں رنگِ بغاوت نہیں چھپنے پاتا

ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں

…٭…٭…٭…

سدا اپنی روش اہلِ زمانہ یاد رکھتے ہیں

حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں

…٭…٭…٭…

طوفانِ برق و باد ہی کافی نہیں کہ اب

ظالم کی بستیوں میں درندے بھی آئیں گے

آئے گا تُو جو کعبۂ امن و اماں کی سمت

اے ابراہ مزید پرندے بھی آئیں گے

…٭…٭…٭…

پروفیسر ڈاکٹر قاسم رضا صدیقی

خرمنِ جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

خاک ساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہم

اپنے ہونے کا یقیں آگیا بجھتے بجھتے

بے کراں شب میں جو امکانِ سحر ہو گئے ہم

…٭…٭…٭…

لمحوں کے تعاقب میں گزر جائیں گی صدیاں

یوں وقت تو مل جائے گا مہلت نہ ملے گی

تعبیر نظر آنے لگی خواب کی صورت

اب خواب ہی دیکھو گے بشارت نہ ملے گی

…٭…٭…٭…

جاوید صبا

آخری شمع بھی بجھ جائے گی تب بولو گے

بولو اب بھی نہیں بولو گے تو کب بولو گے

…٭…٭…٭…

ایوب خاور

کیا قفس چاہتی ہے تازہ ہوا چاہتی ہے

کوئی پوچھے تو یہ کیا خلقِ خدا چاہتی ہے

خواب بھی دفن کیے ہیں یہاں تعبیریں بھی

یہ زمیں اور بھلا کتنی وفا چاہتی ہے

…٭…٭…٭…

اقبال پیرزادہ

دلوں پہ چوٹ پڑے تو فغاں ضروری ہے

وہاں تو بولو رفیقو جہاں ضروری ہے

…٭…٭…٭…

عباس تابش (لاہور)

میری جگہ کوئی مجھ کو سنانے بیٹھ گیا

میں داستان ہوا داستاں سناتے ہوئے

یقین ہے کہ میری ماں نہیں مری تابش

وہ سو گئی ہے مجھے لوریاں سناتے ہوئے

…٭…٭…٭…

تجھے تو چاہئے ہے اور ایسا چاہئے ہے

جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے

ہزار عشق کرو لیکن اتنا دھیان رہے

کہ تم کو پہلی ہی محبت کی بد دعا نہ لگے

……جھلکیاں……

٭…صدرِ مشاعرہ افتخار عارف نے سامعین کی فرمائش اور مسلسل اصرار پر 45 منٹ تک اپنا کلام سنایا۔ ٭…مشاعرے کا آغاز 10بجے شب ہوا، صبح 5بجے تک جاری رہا، ہر شعر پر کھل کر داد دی گئی۔٭…ایکسپو سینٹر کا احاطہ کسی نئی بستی کا منظر پیش کررہا تھا۔ پنڈال میں ایک طرف ’’ساکنان شہرقائد‘‘ کے بنیاد گزاروں کی تصاویر، دوسری جانب ان شعرائے کرام کی تصاویر تھیں جو عالمی مشاعروں میں شریک ہوتے رہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید