جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں، اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں عدالتیں ہوتیں، پنچایتی نظام ہوتا اور نہ ہی اقوامِ متحدہ جیسے ثالثی، مکالمے اور مذاکرات کے ادارے ہوتے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تصادم ہمیشہ تباہی لاتا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس کے برعکس اقوام متحدہ کا قیام، جو مکالمے اور سفارت کاری کی بنیاد پر بنایا گیا، دنیا میں امن قائم کرنے کی ایک کام یاب کوشش ثابت ہوا۔ دوسری طرف سرد جنگ کے دوران سفارتی تعلقات نے ایٹمی جنگ کے خطرے کو کم کیاجو اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت کی طاقت جنگ کے مدّ ِمقابل کہیں زیادہ موثر ہے۔
ایک مشہور تحقیق Conflict Resolution Quarterly میں شائع کی گئی جس نے یہ ثابت کیا کہ مکالمہ تنازعات کو حل کرنے میں 78 فی صد زیادہ موثر ہے بہ نسبت جبر یا دباؤ کے۔ اسی طرحJournal of Peace Researchکی ایک تحقیق نے ظاہر کیا کہ بین الاقوامی تعلقات میں سفارت کاری نے 90 فی صد معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا،جو مکالمے کی طاقت کو ثابت کرتا ہے۔
موثر رابطے مسائل کا حل
دراصل انسانی تاریخ نے ہر دور میں ایسے بہت سے مواقعے دیکھے جب جنگوں اور تنازعات کے بعد قوموں اور گروہوں نے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کرقیامِ امن کی راہ نکالی۔نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بات چیت انسانی جذبات اور خیالات کو سمجھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔
کارل راجرز (Carl Rogers) کی Client۔ Centered Therapy اس بات پر زور دیتی ہے کہ موثر اور مسلسل رابطوں یا کمیو نی کیشن کے ذریعے مسائل کو بہتر طور پر سمجھا اور حل کیا جا سکتا ہے۔ سماجی طور پر مکالمہ معاشرتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقا میں نیلسن منڈیلا نے امن اور مفاہمت کے اصولوں کو اپنایا اور بات چیت کے ذریعے نسل پرستی جیسا گہرا سماجی مسئلہ حل کیا۔
مکالمہ، مختلف نقطہ ہائے نظر سمجھنے کا ذریعہ
مکالمہ نہ صرف نظریاتی اختلافات کو کم کرتا ہے بلکہ معاشی مسائل کے حل میں بھی معاون ہے۔ بین الاقوامی تجارتی معاہدے اس بات کی واضح مثال ہیں کہ بات چیت کے ذریعے کس طرح ممالک اپنے اختلافات کو ختم کر کے ترقی کی راہ پر گام زن ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں مکالمے کی تربیت طلباء کو مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
یاد رکھیےکہ ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو 200 ممالک پر مشتمل ہے، جہاں سیکڑوں ثقافتیں روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، جہاں بِیسیوں مذاہب اپنے اپنے مذہبی اور مسلکی فرق کے ساتھ اپنی شناخت اور دوسروں کے احترام کا رشتہ برقرار رکھنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں، جہاں دَسِیوں صنفی اور سوچ کے تضادات آپس میں گتھم گتھا ہیں، وہاں کوئی کیسے یہ امید رکھ سکتا ہے کہ کوئی ایک فرد، گروہ یا ملک اپنے خیالات و نظریات کی بنیاد پر ساری دنیا کو اپنے جیسا بنا لے گا۔
پانچ سے دس ہزار برسوں کی معلوم دنیا کا بہ غور مطالعہ کیا جائے توبا آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کبھی بھی اور کسی بھی دور میں ایسے خیالات و نظریات مستقل بنیادوں پر لوگوں کے دلوں اور زندگیوں کا حصہ نہیں بن پائے جو منطق کے بجائےجبر اور طاقت کی بنیاد پر قائم کیے گئے ہوں۔
بدلتی دنیا اور آپس میں ضم ہوتے خیالات و نظریات اور سوچ و ثقافت کو اگر ہم سمجھیں گے نہیں اور اگر ہم تنوّع کا احترام کرتے ہوئے سب کے ساتھ چلنے کی روش نہیں اپنائیں گے تو ہم امن کے ساتھ دوسروں کے ساتھ چل سکیں گے اور نہ ہی دوسرے ہمارے ساتھ اعتماد کا رشتہ استوار کر سکیں گے۔
مذاکرات کیسے نتائج لاتے ہیں
مذاکرات جنگوں کو ختم کرنے اور امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم سفارتی ہتھیار ہیں۔ موجودہ صورت حال اور تاریخی تناظر میں مذاکرات درج ذیل طریقوں سے تنازعات اور جنگیں ختم کراتے ہیں:
جنگ بندی کے معاہدے (Ceasefire Agreements): مذاکرات کے ذریعے فریقین عارضی یا مستقل جنگ بندی پر آمادہ ہوتے ہیں، جس سے خوں ریزی رک جاتی ہے، جیسے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی تک پہنچنا تھا۔
علاقائی تنازعات کا حل: مذاکرات کے ذریعے سرحدوں، پانی یا وسائل کے تنازعات کو جنگ کے بجائے گفت و شنید سے حل کیا جاتا ہے۔
اعتماد سازی کے اقدامات (Confidence Building Measures): بات چیت کے دوران اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھیں اور مزید حملوں سے گریز کریں۔
بین الاقوامی ثالثی: اکثر تیسرا فریق (جیسے پاکستان یا دیگر ممالک) ثالثی کر کے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لاتا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کی راہ ہم وار ہوتی ہے۔
سیاسی حل کی تلاش: فوجی حل کے بجائے سیاسی حل پر بات چیت کی جاتی ہے، جس میں مستقبل کے تعلقات اور معاہدوں پر اتفاق کیا جاتا ہے۔
اگرچہ بعض اوقات مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر بھی ختم ہو سکتے ہیں (جیسا کہ حالیہ ایران-امریکا مذاکرات میں ہوا)، لیکن یہ عمل امن کی خواہش اور جنگ کے بجائے بات چیت کو ترجیح دینے کا عکاس ہوتا ہے اور طویل مدت میں جنگیں ختم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔
عقل و فہم، تدبّر اور تحمّل کی ضرورت
مکالمے، مذاکرات اور معاہدوں کے لیے عقل و فہم، تدبّر اور تحمّل کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام جذبات کے بجائے ہوش و خرد کا متقاضی ہوتاہے۔عقل کا چراغ اور جذبات کی لو انسانی ہستی کے بنیادی ستون ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مکمل اور متوازن زندگی اور معاشرے کے لیے ان دونوں قوتوں کو کس طرح ہم آہنگ کیا جائے تاکہ انسان محض ایک سوچنے والی مشین یا بے لگام جذبات کا طوفان بن کر نہ رہ جائے۔ نفسیات میں عقل اور جذبات کا رشتہ گہرا اور پے چیدہ ہے۔
جذبات محض حادثاتی رد عمل نہیں بلکہ ہماری ضروریات، خواہشات، اور اندرونی دنیا کا عکس ہوتےہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا اہم ہے۔ ڈینیئل گولمین جیسے ماہرین نفسیات نے جذباتی ذہانت (EQ) کا تصور پیش کیا، جو جذبات کو سمجھنے، ان کا انتظام کرنے، دوسروں کے جذبات کو پہچاننے اور انہیں سماجی تعلقات میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔
دوسری جانب صرف منطق پر انحصار کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔اگر ہم اپنے جذبات کو پہچاننےسے انکار کر دیں تو وہ دب کر نفسیاتی عوارض جیسے اضطراب یا ڈپریشن کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسا شخص اندر سے کھوکھلا محسوس کر سکتا ہے، اس کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہےاور وہ دوسروں سے گہرا تعلق قائم کرنے سے قاصر ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جذبات منزل نہیں بلکہ سمت بتانے والے اشارے ہیںاور عقل وہ نقشہ ہے جو ہمیں منزل تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔ عقل اور جذبات دونوں انسانی تعاملات کے لیے ناگزیر ہیں۔ منطق اور استدلال قوانین بنانے، نظام چلانے اور اجتماعی اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔ معاہدے، ادارے، حکومتیں اور معیشتیں سب عقلی بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں۔
جس معاشرے یا ادارے میں صرف جذبات کی حکم رانی ہو وہ افراتفری کا شکار ہو جاتا ہے۔ جذبات، خاص طور پر ہم دردی (empathy) اور شفقت کے جذبات اور اعتماد، سماجی رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ افراد کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ ہم دردی ہمیں دوسروں کی مدد کرنے پر اکساتی ہے، جو فلاحی کاموں کی بنیاد ہے۔ اعتماد باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ غصے اور نا انصافی کا احساس سماجی تبدیلی کی تحریک پیدا کر سکتا ہے۔
تاریخ کی کتابوں کی ورق گردانی ہمیں ان افراد اور گروہوں کی کہانیاں سناتی ہے جو عقل اور جذبات کو یک جا کر کے مثبت تبدیلیاں لائے۔ سائنس دانوں کی عظیم دریافتیں صرف منطق کا نتیجہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں تجسس اور حقیقت جاننے کا گہرا جذباتی لگاؤ بھی شامل ہوتا ہے۔
فنون لطیفہ جذبات کا اظہار ہیں، مگر انہیں تخلیق کرنے کے لیے تیکنیک اور عقلی ساخت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دراصل انسان جب صرف عقل کا غلامبن جاتاہے تو بے حس ہو جاتا ہے اور جب صرف جذبات کے رحم و کرم پر ہوتا ہے تو بے وقوفانہ اور تباہ کن کام کر بیٹھتا ہے۔ کام یابی اور عروج ان تہذیبوں کا مقدر بنا جنہوں نے ان دونوں قوتوں کے درمیان توازن قائم رکھا۔
تائیوان کا تنازع
اکتوبر 1971 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 26 ویں اجلاس میں، پاکستان اور 22دیگر ممالک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ قرارداد نمبر2758میں قرار دیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کے تمام قانونی حقوق بحال کیے جائیں، چین کی حکومت کے نمائندوں کو چین کے واحد قانونی نمائندوں کے طور پر تسلیم کیا جائےاورفوری طور پر تائیوان کی انتظامیہ کے نمائندوں کو اقوام متحدہ اور اس سے منسلک تمام اداروں سے نکالا جائے۔
اس قرارداد نے اقوام متحدہ میں چین کی نمائندگی کے سیاسی اور قانونی طریقہ کار سے متعلق امور کو ہمیشہ کے لیےطے کیا اور واضح کیا کہ چین کی اقوام متحدہ میں صرف ایک نشست ہے، لہٰذادو چین یا ایک چین، ایک تائیوان، ناقابل قبول ہے۔
قرارداد نمبر 2758ایک واضح اصول پر مبنی ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے، تائیوان چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت ہی پورے چین کی واحد قانونی نمائندہ ہے۔ چین نےدنیا بھر سے اپنا یہ موقف منوانے کے لیے سفارت کاری ، مذاکرات اور مکالمے کا بھرپور اور مسلسل استعمال کیا۔
تائیوان ہمیشہ سے چین کا ایک حصہ رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت، عالمی اتفاقِ رائے اور قرارداد نمبر 2758کی منظوری کی بنیادی سیاسی شرط ہے۔ 1895 میں جاپان نے چین کے چھنگ شاہی خاندان پر حملہ کر کے تائیوان کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ 1945میں چین کی جاپان کی جارحیت کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد، تائیوان چین کی آغوش میں واپس کر دیا گیا۔
1943کا قاہرہ اعلامیہ اور 1945کے پوسٹڈم اعلامیے میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا کہ جاپان نے تائیوان کو چین سے چھین لیا اور اسے چین کو واپس کرنا چاہیے۔ جاپان نے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے میں یہ وعدہ کیا کہ وہ درست طور پر پوسٹڈم اعلامیے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرے گا۔ ان تمام بین الاقوامی دستاویزات نے چین کی تائیوان پر خودمختاری کو تسلیم کیا اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بین لااقوامی نظام کو تشکیل دیا۔
1949 میں، عوامی جمہوریہ چین کی حکومت ریپبلک آف چائنا کی جگہ لے کر پورے چین کی واحد قانونی حکومت کے طور پر قائم ہوئی۔ قرارداد نمبر 2758 کی منظوری سے قبل بھی، اقوام متحدہ نے تائیوان کی حیثیت کا اپنے چارٹر کے تحت جائزہ لیا۔ قرارداد پر بحث کے دوران، زیادہ تر رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ اب یہ مسئلہ کسی نئے ملک کو رکن بنانے کا نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ اس ادارے میں چین کی قانونی نمائندہ حکومت کون ہے۔
اس وقت تائیوان کے نام نہاد نمائندے نے بھی مانا ہے کہ دوسرے ممالک نے ہمیشہ تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کیا ہے جس پر اسے کوئی اعتراض نہیں۔ قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کے دوران، امریکا نے کچھ ممالک کو ساتھ ملا کر چین کی دہری نمائندگی کی تجویز پیش کی تاکہ دو چین یا ایک چین، ایک تائیوان کا تصور پیدا کیا جائے۔
مگر اقوام متحدہ کے ارکان کی اکثریت نے اس سازش کو مسترد کر دیا اور قرارداد نمبر 2758بھاری اکثریت سے منظور ہوئی، جس سے دنیا نے یہ حقیقت تسلیم کی کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے۔
1970 کی دہائی کے اوائل میں، قرارداد کی منظوری کے ساتھ چین کی سفارتی سطح پر قبولیت کی تیسری اور سب سے بڑی لہر دیکھی گئی، جب 50 سے زائد ممالک نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اب تک 183، ممالک ایک چین کے اصول کی بنیاد پر چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے کئی دہائیوں سے تائیوان سے متعلق معاملات میں ایک چین کے اصول پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے قانونی امور کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ تائیوان، چین کا ایک صوبہ ہے، اس کی کوئی خودمختار حیثیت نہیں، تائیوان کی انتظامیہ حکومتی حیثیت کی حامل نہیں اور اگر کسی دستاویز میں تائیوان کا لفظ استعمال ہو تو اسے چین کے ایک صوبے کے طور پر استعمال ہونا چاہیے۔ یہ حقیقت ثابت کرتی ہے کہ ایک چین کا اصول عالمی معاشرت میں ایک اتفاق رائے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک بنیادی معمول بن چکا ہے۔
1965 سے 1971تک، پاکستان اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں لگاتار قراردادوں کے مسودے کا شریک پیش کنندہ رہا، جس نے اقوام متحدہ میں چین کے قانونی حقوق کی بحالی کی حمایت کی۔ 25اکتوبر 1971کو، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 1976ویں اجتماعی اجلاس میں ، اقوام متحدہ میں اس وقت پاکستانی نمائدہ آغا شاہی نے قرارداد کے مسودے کی بھرپور حمایت کی اور فوری ووٹنگ پر اصرار کیا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کی دہری نمائندگی کی تجویزاقوام متحدہ کے چارٹر میں علاقائی سالمیت کے اصول کے خلاف ورزی ہے، جو مسلط کردہ علیحدگی کو قانونی علیحدگی بنانے کی کوشش ہے۔
یہ سب کچھ چین نے بغیر جنگ کیے، مسلسل مکالمے سے حاصل کیا۔
آئر لینڈ کا مسئلہ
یہ تنازع 1968میں شروع ہوا، اس خونیں تنازعے میں 3600افراد مارے گئے ،اس دور کو Troubles کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اصل جھگڑا شمالی آئر لینڈ کی آئینی حیثیت سے متعلق تھا۔ یونینسٹ، جو اکثریت میں تھے اور پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتے تھے، تاجِ برطانیہ کے زیر سایہ رہنا چاہتےتھے۔
دوسری طرف نیشنلسٹ اورر ی پبلکن تھے جو کیتھولک اقلیت تھے اور ری پبلک آف آئرلینڈ کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ یہ مذہبی نہیں بلکہ خالصتاً علاقائی تنازع تھا۔آئرش ری پبلکن آرمی اسی دور میں وجود میں آئی جس کی مسلح جدوجہد کا مقصد گوروں کو اپنے علاقے سے باہر نکلنے پر مجبور کرنا اور شمالی آئرلینڈ کا ری پبلک آف آئرلینڈ سے الحاق تھا۔آئی آر اے کا سیاسی بازو، شن فین Sinn Fein کہلاتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ تنازعے میں مسلح جدوجہد کے بجائے سیاسی رنگ غالب آتا گیا اور بالآخر تمام فریقوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 1996میں شروع ہوا جو 1998 میں ایک معاہدے کی صورت میں کام یاب ہوا۔ اس معاہدے میں ’’رضامندی کا اصول‘‘ طے ہوا جس کے مطابق شمالی آئر لینڈ کی آئینی حیثیت اور آئر لینڈ سے اس کے الحاق کا فیصلہ صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سرحدوں کے دونوں اطراف علیحدہ علیحدہ ریفرنڈم میں اکثریتی ووٹ اس کے حق میں ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس معاہدے سے پہلے آئی آر اے 1994میں جنگ بندی کا اعلان کر چکی تھی اور مذاکرات سے پہلے تمام جنگ جوئوں کے ہتھیار باقاعدہ تباہ کردیے گئے تھے۔
مائی ریڈ میگوائر
مائی ریڈ میگوائر نامی برطانوی خاتون کو 1976ء میں امن کا نوبل انعام ملا تھا۔ مائی ریڈ میگوائر کا تعلق شمالی آئر لینڈ کے شہر بلفاسٹ سے تھا۔ شمالی آئر لینڈ میں آئرش ری پبلکن آرمی اور برطانوی فوج میں کئی سال تک لڑائی جاری رہی۔ اس لڑائی میں مائی ریڈ میگوائر کی بہن این میگوائر کے تین بچے مارے گئے تھے۔
ان بچوں کی موت کے بعد مائی ریڈ میگوائر نے اپنی ایک دوست بٹیی ولیمز کے ساتھ مل کر بلفاسٹ میں ایک تنظیم بنائی جس کا نام ’’ویمن فار پیس‘‘ تھا۔ اس تنظیم نے شمالی آئر لینڈ میں مسیحیوں کے دونوں فرقوں کی خواتین کو امن کے نام پر اکٹھا کرنا شروع کیا کیوں کہ آئر لینڈ کی خانہ جنگی کے پیچھے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے اختلافات تھے۔
’’ویمن فار پیس‘‘ کے پہلے مظاہرے میں 200خواتین نے شرکت کی۔ ان تمام خواتین کے بیٹے، بھائی یا خاوند بم دھماکوں یا فائرنگ سے مارے گئے تھے۔ کسی کو آئرش ری پبلکن آرمی کے بم دھماکے نے اڑایا تھا توکسی کو برطانوی فوج کی گولی یا بم باری نے موت کی نیند سلادیا تھا۔
کچھ ہی عرصے میں ’’ویمن فار پیس‘‘ کے مظاہروں میں ہزاروں عورتوں نے شرکت کرنا شروع کر دی۔ یہ خواتین صرف آئی آر اے پر نہیں بلکہ برطانوی فوج پر بھی تنقید کرتی تھیں۔ ’’ویمن فار پیس‘‘ نے فریقین سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبے کو صرف آئر لینڈ میں نہیں بلکہ پورے برطانیہ میں پذیرائی ملی اور یوں آئرش ری پبلکن آرمی کے برطانوی حکومت سے مذاکرات شروع ہوئے۔1997ء میں آئرش ری پبلکن آرمی نے 3 سال میں دوسری بار سیز فائر کا اعلان کیا ۔ 2005ء آئرش ری پبلکن آرمی (آئی آر اے) نے تیس سالہ مسلح جدوجہد کے خاتمے کا علان کیا۔
مائی ریڈ میگوائر اور بٹیی ولیمز کو 1976ء میں امن کا نوبل انعام ملا،لیکن شمالی آئر لینڈ میں ’’گڈ فرائی ڈے ایگریمنٹ ‘‘ کے نام سے امن معاہدہ 1998ء میں ہوا۔ امن مذاکرات کئی مرتبہ شروع ہوئے ،کئی مرتبہ ٹوٹے۔ آئی آر اے میں مذاکرات پر اختلافات تھے اور برطانوی حکومت کے اندر بھی یہ رائے پائی جاتی تھی کہ بم دھماکے کرنے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ 22سال تک یہ آنکھ مچولی چلتی رہی ،لیکن 22سال بعد مائی ریڈ میگوائر کا خواب حقیقت بن گیا اور اب شمالی آئر لینڈ کا شہر بلفاسٹ امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔
یہ امن بھی مذاکرات ہی کے ذریعے قائم ہوا تھا۔