امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اہم عالمی تنازعات خصوصاً ایران سے کشیدگی میں غیر معمولی طور پر منظر سے غائب رہے۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے بارہا اپنے قریبی ساتھیوں کو آگے کیا ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ روز اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا گیا جبکہ اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی حکام سے طویل مذاکرات کرتے رہے مگر ان تمام اہم سفارتی سرگرمیوں میں مارکو روبیو کی عدم موجودگی نے سوالات کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کے وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اہم عالمی تنازعات خصوصاً ایران سے کشیدگی میں غیر معمولی طور پر منظر سے غائب رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روبیو جو ماضی میں سخت گیر ریپبلکن مؤقف رکھتے تھے، اب ٹرمپ کی ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی کے تحت خود کو نسبتاً پس منظر میں رکھے ہوئے ہیں۔
بعض ماہرین کے مطابق وہ ایران جیسے غیر مقبول اور پیچیدہ معاملے سے دانستہ فاصلہ اختیار کر رہے ہیں تاکہ اگر مذاکرات ناکام ہوں تو اس کا سیاسی نقصان ان کے کھاتے میں نہ آئے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مستقبل میں صدارتی دوڑ کے ممکنہ امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ روبیو اپنے پیشرو وزرائے خارجہ کے مقابلے میں بیرونِ ملک کے کم دورے کر رہے ہیں اور ان کی توجہ زیادہ تر لاطینی امریکا پر مرکوز ہے، جہاں وینزویلا، کیوبا اور نکاراگوا جیسے ممالک کے حوالے سے امریکی پالیسی میں وہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روبیو کے پاس بیک وقت دو اہم عہدے ہیں، جیسا کہ ماضی میں ہنری کسنجر کے پاس تھے۔ تاہم مبصرین کے مطابق موجودہ دور میں خارجہ پالیسی کا کنٹرول زیادہ تر صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے اور خصوصی ایلچیوں کے پاس ہے، جس سے وزیر خارجہ کا روایتی کردار محدود ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ روبیو ہر اہم قومی سلامتی کے فیصلے میں شامل ہوتے ہیں، تاہم فنانشل ٹائمز کے مطابق عملی طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں شخصیات کا کردار بدل چکا ہے اور روایتی سفارتی ڈھانچہ کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔