• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ جو کبھی دریائے سندھ کی فیاضی، زرخیز زمینوں اور سرسبز کھیتوں کے باعث برصغیر کا خوشحال خطہ سمجھا جاتا تھا۔ آج ایک ایسے بحران کی گرفت میں ہے جو بظاہر خاموش مگر اثرات کے اعتبار سے نہایت تباہ کن ہے۔پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی قحط سالی نے نہ صرف صوبے کی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے یہ بحران محض قدرتی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں انسانی غفلت،ناقص پالیسی سازی اور غیر منصفانہ وسائل کی تقسیم کا بھی بڑا دخل ہے۔

دریائے سندھ جو اس خطے کی زندگی کی علامت ہے۔آج خود اپنی بقا کی جنگ لڑتا محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے پانی کی غیر متوازن تقسیم سندھ کے لئے ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔بالائی علاقوں میں ڈیمز اور بیراجوں کے ذریعے پانی کو روک لینے سے زیریں سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں مل پاتا جس کے نتیجے میں نہری نظام کمزور پڑتا جارہا ہے اور زراعت شدید متاثر ہورہی ہےخاص طور پر بدین، ٹھٹھہ،سجاول اور تھر پارکر جیسے اضلاع میں پانی کی شدید قلت معمول بنتی جارہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔

بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی،گرمی کی شدت میں اضافہ اور زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی نے زندگی کو مشکل بنادیا ہے۔ تھر پارکر جیسے علاقوں میں بارش نہ ہونے کے برابر ہے جہاں ہر سال قحط سالی کے باعث نہ صرف مویشی ہلاک ہوتے ہیں بلکہ انسانی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں۔غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث بچوں اور خواتین کی اموات میں اضافہ ایک المناک حقیقت بن چکا ہے۔ زرعی معیشت جو سندھ کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے پانی کی کمی کے باعث کپاس،گندم اور چاول جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں جبکہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ نقل مکانی شہری انفراسٹرکچر پر بھی اضافی دبائو ڈال رہی ہے جہاں پہلے ہی وسائل محدود ہیں۔ کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہری مراکز میں پانی کی قلت ایک الگ شکل اختیار کرچکی ہے۔ شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی کا نظام بوسیدہ ہوچکا ہے جبکہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا اس بحران سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عام شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ غریب طبقہ آلودہ پانی استعمال کرنے کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہورہا ہے ۔یہ صورتحال نہ صرف صحت عامہ کا مسئلہ ہے بلکہ سماجی ناانصافی کی بھی واضح مثال ہے۔

حکومتی سطح پر مختلف منصوبوں اور اعلانات کے باوجود زمینی حقیقت میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔پانی کے ذخائر میں اضافہ،نہروں کی صفائی و مرمت اور جدید آبپاشی نظام کا نفاذ ایسے اقدامات ہیں جو فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے موثر قانون سازی اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی ناگزیر ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈرپ اری گیشن، رین واٹر ہارویسٹنگ اور واٹر ری سائیکلنگ جیسے جدید طریقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات تک محدود نہیں رہ سکتا۔ عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا، پانی کے محتاط استعمال کو فروغ دینا اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے عملی اقدامات کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔درختوں کی کٹائی پر قابو پانا اور شجر کاری کو فروغ دینا بھی اس بحران کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اگر موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے ادراک نہ کیا گیا تو سندھ میں پانی کی قلت ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہوسکتی ہے جس کے اثرات نہ صرف اس صوبے بلکہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مسئلہ سمجھا جائے اور اس کے حل کے لیے مربوط،دیرپا اور موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ سندھ کی بقا دریائے سندھ سے جڑی ہے اور اگر یہ دریا کمزور پڑگیا تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔وقت آچکا ہے کہ ہم صرف باتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس بحران کا مقابلہ کریں کیونکہ پانی صرف ایک وسیلہ نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہے۔

تازہ ترین