• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران مذاکرات تعطل کا شکار، سفارتکاری کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ بندی تو برقرار ہے لیکن اسے مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کر دیا۔

 دونوں ممالک اپنے مؤقف پر قائم ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار امریکا کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے حد سے زیادہ مطالبات پیش رفت میں رکاوٹ بنے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال مکمل ناکامی نہیں بلکہ وقتی تعطل ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سفارت کاری کا عمل سیدھا نہیں ہوتا بلکہ اس میں رکاوٹیں، تعطل اور پسِ پردہ رابطے شامل ہوتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران اگر مذاکرات چاہتا ہے تو وہ خود رابطہ کرے، جبکہ ایران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ دباؤ یا ناکہ بندی کے تحت مذاکرات ممکن نہیں۔

 ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران مسلط کردہ مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔

ادھر آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی بحری ناکہ بندی نے عالمی تیل کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک جنگ نہیں چاہتے، اسی لیے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اختلافات کی گہرائی کے باعث فوری معاہدہ ممکن نظر نہیں آتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال ایک طویل نہ جنگ، نہ امن کی کیفیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 2015ء کا ایران جوہری معاہدہ بھی طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے معاملات میں وقت اور مسلسل سفارت کاری کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید