• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہ چارلس کا دورۂ امریکا، دونوں ممالک کے تعلقات مختلف ادوار میں اتار چڑھاؤ کا شکار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

برطانیہ کے بادشاہ چارلس کا 4 روزہ دورۂ امریکا ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں، برطانوی سفیر نے اس دورے کو باہمی دوستی کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹامر پر ایران کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے پر تنقید کی ہے، یہاں تک کہ انہیں ’ناٹ ونسٹن چرچل‘ تک بھی کہہ دیا۔

اگرچہ 1776ء میں آزادی اور 1812ء کی جنگ کے باوجود دونوں ممالک طویل عرصے سے اتحادی رہے ہیں لیکن دونوں کے تعلقات میں وقتاً فوقتاً اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

اہم تاریخی لمحات:

1940-44ء (دوسری عالمی جنگ):

امریکا اور برطانیہ نے نازی جرمنی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی اور فرینکلن ڈی روزویلٹ  نے لینڈ لیز قانون کے ذریعے برطانیہ کی مدد کی۔

1956ء (سوئز بحران):

امریکا نے برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی مصر کے خلاف کارروائی کی مخالفت کی اور مالی دباؤ ڈال کر جنگ رکوا دی۔

1982ء (فاک لینڈ جنگ):

ابتداء میں امریکا غیر جانبدار رہا، بعد میں برطانیہ کو محدود مدد فراہم کی۔

1994ء (شمالی آئر لینڈ تنازع):

بل کلنٹن نے گیری ایڈمز کو ویزا دیا جس پر برطانیہ ناراض ہوا مگر بعد میں یہی قدم امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنا۔

1998-99ء (کوسوو جنگ):

برطانوی فوج کارروائی بڑھانے کی حامی تھی جبکہ امریکا محدود فضائی حملوں پر قائم رہا۔

2003ء (عراق جنگ):

برطانیہ نے ٹونی بلیئر اور جارج ڈبلیو بش کا ساتھ دیا جس پر برطانیہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔

2011ء (لیبیا جنگ):

بارک اوباما نے برطانیہ پر لیبیا میں جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی میں کم دلچسپی کا الزام لگایا۔

یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان ’خصوصی تعلق‘ مضبوط ہونے کے باوجود اختلافات سے خالی نہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید