• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ: ٹرمپ کے سامنے 3 راستے موجود، کسی 1 کا انتخاب کرنا ہو گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ---فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے حوالے سے یکم مئی کی اہم ڈیڈ لائن کا سامنا ہے، امریکی قانون وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر 60 دن سے زیادہ فوجی کارروائی جاری نہیں رکھ سکتے۔

بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی میں شائع ایک تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت ٹرمپ کے پاس کانگریس کی منظوری موجود نہیں جس کے باعث انہیں 3 ممکنہ راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

بھارتی صحافی کے تجزیے کے مطابق پہلا راستہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ ہے جس کے تحت جنگ ختم ہو سکتی ہے، ایران نے مشروط پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا فضائی حملے روکے اور ناکہ بندی ختم کرے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا تاہم اس امکان کو کمزور قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ کانگریس سے فوجی کارروائی کے لیے اجازت حاصل کی جائے جس کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ 

اس صورت میں جنگ جاری رہ سکتی ہے اور مزید کارروائی حتیٰ کہ زمینی آپریشن بھی ممکن ہے، اس امکان کو درمیانی درجے کا قرار دیا گیا ہے۔

تیسری اور زیادہ ممکنہ صورتِ حال یہ ہے کہ ڈیڈ لائن گزر جائے اور صدر اسے نظر انداز کرتے ہوئے جنگ جاری رکھیں، اس صورت میں قانونی اور سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان تنازع بڑھ سکتا ہے۔

بھارتی تجزیہ کار چندر شیکھر سری نواسن کے مطابق ٹرمپ ایک مشکل صورتِ حال میں ہیں جہاں ہر آپشن سیاسی یا قانونی خطرات سے بھرپور ہے اور کوئی بھی راستہ واضح کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید