ماہرین کا کہنا ہےکہ صبح سویرے اٹھنے کے بعد ایک کپ کافی نہ صرف توانائی دیتی ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ دیگر فوائد بھی دے سکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ آنتوں اور دماغی صحت دونوں کے لیے مفید ہے۔
اس حوالے سے آئرلینڈ کے یونیورسٹی کالج کارک کے اے پی سی مائیکرو بائیوم کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ کیفین والی اور بغیر کیفین والی دونوں طرح کی کافی آنتوں کے بیکٹیریا پر مثبت اثر ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں مزاج اور ذہنی دباؤ پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اگرچہ حالیہ تحقیق اس پرانے خیال کی تائید کرتی ہے کہ کافی ہاضمے کو بہتر بناتی ہے اور ذہنی صحت کو فروغ دیتی ہے، لیکن ان اثرات کے پیچھے موجود حیاتیاتی طریقہ کار اب تک پوری طرح واضح نہیں تھا۔
اس نئی تحقیق میں معدے اور دماغ کے درمیان پیچیدہ رابطے کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے 62 افراد کا تجزیہ کیا۔ اس میں نفسیاتی جائزے، غذا کی نگرانی اور فضلے اور پیشاب کے نمونوں کا تجزیہ شامل تھا۔
ان میں سے نصف افراد باقاعدگی سے کافی پیتے تھے جبکہ باقی 31 افراد کافی نہیں پیتے تھے۔ جو لوگ روزانہ تین سے پانچ کپ کافی پیتے تھے انہیں دو ہفتوں کے لیے کافی چھوڑنے کو کہا گیا۔ اس دوران انکے نظام ہضم میں موجود بیکٹیریاز میں نمایاں تبدیلیاں نوٹ کی گئیں۔
یہ تحقیق طبی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کافی پینے والوں میں کچھ مخصوص بیکٹیریا جیسے ایگریٹیلا اور کریپٹوبیکٹریم کورٹم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو ہاضمے میں مدد دیتے ہیں اور نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔