بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ جسم میں جوڑوں کو لچکدار رکھنے والا مادہ کم ہونے لگتا ہے جس سے جوڑ اکڑ جاتے ہیں اور درد و سوزش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جوڑوں کی صحت برقرار رکھنا روزمرہ زندگی کی آسانی کے لیے نہایت ضروری ہے، جوڑ ہڈیوں کو آپس میں جوڑ کر حرکت کو ممکن بناتے ہیں مگر زیادہ عمر، غیر متحرک طرزِ زندگی، ناقص غذاء، پانی کی کمی اور موٹاپا ان کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چکناہٹ کم ہونے سے ہڈیاں آپس میں رگڑ کھانے لگتی ہیں، جس سے درد، سوجن اور حرکت میں مشکل پیدا ہوتی ہے اور یہ صورتِ حال آگے چل کر گٹھیا جیسے مرض کا سبب بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے جوڑوں کو صحت مند رکھنے کے لیے 6 اہم تجاویز دی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق روزانہ چہل قدمی، تیراکی یا سائیکل چلانا جوڑوں میں چکناہٹ بڑھاتا ہے، ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ورزش مفید ثابت ہوتی ہے۔
زیادہ وزن گھٹنوں اور کولہوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، اس لیے متوازن غذا کے ذریعے وزن کم رکھنا ضروری ہے۔
جوڑوں کی روانی کے لیے پانی بنیادی کردار ادا کرتا ہے اس لیے دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔
مچھلی، اخروٹ اور السی کے بیج جسم میں سوزش کے محرکات کو کم کرتے ہیں اور جوڑوں کو لچکدار رہنے میں مدد دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اچانک ورزش شروع نہیں کرنی چاہیے، اس سے پٹھوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، ہلکی اسٹریچنگ (انگڑائیاں لینا اور پٹھوں کو کھینچنا) اور جسم میں حرارت پیداکرنے والی ورزشیں جوڑوں کو حرکت کے لیے تیار کرتی ہیں۔
صحیح انداز میں بیٹھنا اور کھڑا ہونا جوڑوں پر غیر ضروری دباؤ کم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے بڑھتی عمر میں بھی جوڑوں کو صحت مند اور متحرک رکھا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔