• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طرز زندگی میں تبدیلی سے جگر کی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے، تحقیق

ایک بڑی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ مہلک جگر کی بیماری کے خطرے سے دوچار ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف طرز زندگی میں تبدیلی سے ان کیسز کو نصف کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پوری دنیا میں جگر کی بیماری ایک خاموش وبا کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے رہی ہے، حالانکہ زیادہ تر کیسز قابل بچاؤ ہیں۔

یہ تحقیق لانسیٹ کمیشن برائے برائے جگر کی صحت نے تیار کی اور اس کے مطابق شراب نوشی، غیر صحت بخش غذا، موٹاپا اور وائرل ہیپاٹائٹس جگر سے متعلق اموات میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلیوں سے دنیا بھر میں جگر کی بیماری کے بوجھ کو تقریباً نصف تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الکوحلک مشروبات کی روک تھام، بہتر اسکریننگ اور جلد تشخیص جیسی پالیسیاں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانوی ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ جگر کی بیماری ایک بڑھتا ہوا عوامی صحت کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ادھر دوسری جانب برٹش لیور ٹرسٹ کے مطابق ہر سال 11,000 سے زائد افراد جگر کی بیماری کے باعث ہلاک ہوتے ہیں، جو روزانہ 31 سے زیادہ اموات کے برابر ہے۔

اگرچہ برطانیہ میں کبھی جگر کی بیماری کو زیادہ تر شراب نوشی سے جوڑا جاتا تھا، مگر اب اسے جدید طرزِ زندگی کے عوامل جیسے غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور میٹابولک بیماریوں سے بھی منسلک کیا جا رہا ہے۔

میٹابولک ڈس فنکشن سے وابستہ اسٹیٹوٹک جگر کی بیماری جسے پہلے نان الکحل فیٹی لیور بیماری کہا جاتا تھا، موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہوتی ہے۔

یہ اکثر کئی سالوں تک خاموشی سے نشوونما پاتی ہے اور اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اس وقت تک اس بیماری کا علم نہیں ہوتا جب تک جگر کو خاصہ نقصان نہ پہنچ چکا ہو۔

کمیشن کے مطابق ڈیجیٹل اشتہارات اور سوشل میڈیا پر بچوں اور نوجوانوں کو نشہ آور اور غیر صحت بخش خوراک کی تشہیر زیادہ دکھا رہے ہیں، جس سے ایسے رویے فروغ پاتے ہیں جو جگر کی بیماری سے جڑے ہوئے ہیں۔

صحت سے مزید