’’امریکہ کا ایران کیخلاف مختصر اور طاقتور حملوں کا منصوبہ تیار‘‘، امریکی نیوز ویب سائٹ ایگریوس کا ذرائع سے دعویٰ۔ رپورٹ کےمطابق امریکی حملوں کا مقصد مذاکرات میں تعطل ختم کرنا ہے ۔ حملوں سے ایران کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر ان کو تباہ کرنا ہے تاکہ ایران مذاکرات کی میز پر آئے ۔ سنٹرل کمانڈ ( CENTCOM) نے آج صدر ٹرمپ کے سامنے کئی آپشنز پیش کرنے ہیں ۔ جوہری مواد کو محفوظ بنانے کیلئے اسپیشل فورسز آپشن پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کا سدباب کیسے ہوگا، سب زیرغور ہے ۔ تازہ ترین خبر کا اگر نچوڑ ESSENCE نکالا جائے تو بات اتنی ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا، مجبور کرنا ہے۔ ایک لطیفہ ہی ہےکہ صدر ٹرمپ ، نیتن یاہو کی جوڑی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور معاہدے توڑنے میں ایک مقام پیدا کر چکی ہے۔ وہ مذاکرات کی عدم موجودگی پر طیش میں ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اب صرف سفارتی نہیں، آج سے بحری اور اقتصادی محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ جنگ بندی کی لاتعداد کوششوں کے باوجود دونوں ممالک خطرناک ٹکراؤ میں داخل ہو چکے ہیں ۔ امریکہ نے جب ایران کی بحری ناکہ بندی کی تو چشم تصور میں ایران میں قحط بھوک ننگ کے اژدھام میںخلقت خدا نے حکمرانوں کو چیر پھاڑ کر کھا جانا تھا۔ بظاہر امریکی مؤقف کہ ایران کے جوہری پروگرام کو امریکہ اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ چند دن پہلے ایران نے تین نکاتی آخری پروپوزل دیا جس نے صدر ٹرمپ کے تن بدن میں آگ لگا دی ۔ تین نکاتی تجاویز میں : امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرنا، آبنائے ہرمز کو مکمل کھولنا اور جنگ بندی کو مستقل شکل دینا۔ جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات اگلے مرحلے میں ہونگے ۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی تجاویز مسترد کردیں۔ جس میں ناکہ بندی ختم کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے کو مستقل جنگ بندی سے جوڑا گیا ۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف کہ ایران پہلے مذاکرات کی میز پر آئے اور جوہری سرگرمیوں پر واضح بیان دے تو اسکے بعد ہی ناکہ بندی نرم کی جا سکتی ہے۔ ایران کے اس رویےپر صدر ٹرمپ نے بقلم خود شرافت چھوڑ دی اور فل ٹائم بدمعاش بننے کا اعلان کر دیا ہے۔
بحیرہ عرب میں امریکی 23بحری جہاز موجود ، کثیر تعداد میں مزید کمک انکی مدد کو پہنچنے والی ہے۔ CENTCOM نے طاقتور حملوں کے آپشن بھی تیار کر لئے ہیں۔ اگر مذاکرات نہیں ہوتے تو آناً فاناً ایران پر شدید حملے کر دیئے جائینگے ۔ امریکہ بحری بیڑےففتھ فلیٹ سمیت کئی Destroyers اور سپورٹ جہاز علاقے میں Reposition ہو چکے ہیں ۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے دھمکیوں کے ہتھکنڈے دوبارہ استعمال میں ہیں۔ اسکا اثر صرف اتنا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 117 ڈالرفی بیرل تک جاپہنچی ہے اور اس تناؤ میں جلد 150ڈالر تک پہنچنے کو ہے۔
ماضی میں سرسری جھانکتے ہیں۔ 14جولائی 2015ء کو ویانا میں ایران اور P5+1 طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی) کے درمیان ایک وسیع و عریض معاہدہ JCPOA یعنی Plan of ActionComprehensive Joint طے پایا ۔ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اسکے بدلے میں ایران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں بتدریج ختم ہونی تھیں۔ معاہدے کےمطابق ایران نے یورینیم افزودگی کومحدود رکھنا تھا ۔ سینٹری فیوجز کی تعداد تقریباً دو تہائی کم کرنا تھی۔
اپنے زیادہ تر افزودہ یورینیم کے ذخائر ملک سے باہر منتقل کرنا تھے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو ہمہ وقت معائنے کے وسیع اختیارات اور اجازت تھی۔ اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر کو دوبارہ ڈیزائن کرنا تھا تاکہ ہتھیاروں کے درجے کا پلوٹونیم پیدا نہ ہو سکے ۔ اسکے بدلے امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے جوہری پابندیوں میں نرمی کرنا تھی اور ایران کو منجمد اثاثوں سمیت عالمی تجارتی منڈیوں تک باقاعدہ دوبارہ رسائی ملنی تھی۔
یہ معاہدہ اکتوبر 2015ء میں باضابطہ طور پر نافذالعمل ہوا اور اس پر عملداری جنوری 2016ء میں شروع ہو گیا۔ امریکہ اور ایران کی طرف سے مذاکراتی ٹیم میں درجنوں اہم عہدیدار اور ہر شعبہ کے ماہرین شریک ہوئے ۔ اسکی اہم بات یہ کہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے علاوہ یورپی یونین، روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی کیساتھ مشترکہ ہوا ۔ 21ویں صدی کا سب سے اہم سفارتی بریک تھرو اور تاریخی معاہدہ قرار پایا۔ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جوہری تصادم کے خدشات کو ختم کیا۔ ایران کا عالمی معیشت سے دوبارہ حصہ بننے کا راستہ نکالا ۔ صد حیف ایک سرپھرا امریکی صدر 2016ء میں منتخب ہوا اور پھر اسرائیل کے کہنے پر 2018ء میں اس معاہدے کو پلک جھپکتے توڑ ڈالا ،عالمی سطح پر امریکی ساکھ ( CREDIBILITY ) کو نقصان پہنچایا، روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی سب منہ تکتے رہ گئے۔
’’میں بدمعاش ہوں‘‘ کا خود ساختہ لقب استعمال کرنیوالا صدر ٹرمپ آج مذاکرات کارونا رو رہا ہے، قطر دوحہ میں ایران سے مذاکرات جاری تھے کہ جون 2025ء کو اسرائیل سے حملہ کروا دیا ، بعد میں 24جون کو امریکہ بھی جنگ میں شریک ہو گیا۔ 8ماہ بعد فروری 2026ء میں ایک بار پھر ایران کو مذاکرات پر آمادہ کیا۔ عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا ۔
عمان کے وزیرخارجہ نے 27فروری کو معاہدےکی نوید دی اور 28فروری کو دستخط ہونے تھے کہ امریکہ اسرائیل نے ایران پر خوفناک بمباری شروع کر دی، 28فروری کو ایرانی قیادت کا قلع قمع کردیا، خیال تھا حکومت مخالف قبضہ کر لیں گے اور گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا آگے بڑھے گا۔
آفرین ہے ایرانی قیادت ٹھنڈ پروگرام سے لطف اندوز ہو رہی ہے ۔ عباس عراقچی اپنے شیڈول کےمطابق پاکستان، عمان، روس کا دورہ کرکے ایران پہنچ چکے ہیں ۔ مسقط سے انہوں نے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کی اور جنگ کے بعد والے ممکنہ پلان پر اعتماد میں لیا ۔ یعنی کہ ایران تندہی سے پاکستان، خلیجی ممالک، مصر، ترکیہ، عراق پر مشتمل ایک اسلامی دفاعی بلاک بنانے کیلئے متحرک ہے ، ایسے اتحاد کو روس اور چین کی تائید حاصل ہے۔ عباس عراقچی کے دوروں کا بنیادی مقصد مستقبل کو محفوظ و درخشاں بنانا ہے۔
28فروری کا حملہ ایران کیلئے قسمت کا دروازہ کھول گیا۔ پہلے دن سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر پوری دنیا کی معیشت آج ایران کے رحم و کرم پر ہے۔ ناکہ بندی یا ایٹمی جنگ، کچھ بھی کرلو، پوری دنیا کو تباہی کی طرف تو دھکیل سکتے ہو ، مگر ایران کا کچھ بگڑنے سے پہلے دنیا بگڑ چکی ہو گی ۔