میں نےایک دن اختر رضا سلیمی سے ڈانٹ کر کہا کہ اب تم اپنے علاقے سے نکلو، دنیا دیکھو، طلسم ہوشربا میںہم جیسے جاگتےہیں، اپنے باپ دادا سے اور آگے نکلواور بھٹکتے لوگوںکو تلاش کرو، جو کبھی خواب میں بھی نظر نہیں آئے۔ شکریہ سلیمی! تم نے مجھے میرے بچپن میں پڑھے ناموں کو میرے اس بڑھاپے میںپیکر بنا کر لاکھڑا کیا۔ ہم لوگ بلند شہر کے اسکول میں پڑھتے تھے۔ وہاں اردو، ہندی اور سنسکرت کے سبق بھی پڑھائے جاتے تھے۔ وہ سارے منظر سائےبن کر بلکہ صرف نام پڑھ کر مجھے اپنے حافظے میں انکی شکلیں بنانے میں بڑا مزہ آیا۔ ارتھ شاستر تو مجھے ٹی وی پرپرانے ڈرامے دیکھ کر یاد آیا۔ پھر وشنو اور چندر گپت موریہ اور اشوک ، مجھے لگا لکھنے والے نے گڑبڑ کر دی کہ اشوک کے زمانے کے بے شمار بت اور تحریریں ٹیکسلا سے لیکر پورے شمالی علاقوں میں سب نے دیکھی ہیں۔ اشوک ادھر کیسے آئے اس نے بنگال میں بہت قتل و غارت کی تھی۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ پہلے شمالی علاقہ جات میں گیا کہ بنگال میں ،بہرحال ابن خلدون کا حوالہ بہت مدد کرتا ہے کہ تاریخ کسی ایک زمانے ، کسی ایک عہد کی بات نہیں۔ بالکل درست مگر ہمارا ناول لکھنے والا اپنے پر دادا، دادی (وہ بھی تین تھیں)وہ بھی تیسری کا باقاعدہ حوالہ ڈھونڈنے کو اپنے خاندان کے مخطوطات، لائبریری کی کتابیں تلاش کرتے کرتے، تیسری دادی پہاڑی پہ چڑھ کے ایک کٹیا میں اسے ملتی ہیں۔ پھر ایک زمانے کا سلسلہ چل نکلتا ہے اور ہمارے مصنف کو خواب میں کردار نظر آیا جسے فنا ہوئے صدیاں بیت چکی تھیں۔ بس اب مصنف ہے کہ ایسے شہر کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا جو اس کے خاندان کے بقول کہیں بھی موجود نہیںتھا ۔ کردار کی یہ دوئی کمال سے بیان کی گئی ہے۔
اب مصنف یعنی اختر رضا سلیمی اپنے پڑھنے والوں کو ایسے کرداروں سے ملوانا چاہتا ہے کہ اس وقت اس کے ساتھ بورخس اور مارکیز بھی اپنی تصنیفات کے حوالے دیتے ہوئے ساتھ چلتے ہیں کہ تلاش کی انتہا نہ اسے معلوم او ر نہ ان دو نوں ادیبوں بورخس اور مارکیز کو کہ وہ اپنے زمانے میں صدیوں پرانے آثار کا حوالہ دیتے ہوئے، اشارہ کرتے ہیں کہ بڑی منزلیں طے کر کے اور اجنبی پہاڑیوں کو سر کر کے ہی بھولی ہوئی بستیوں کا پتہ چلتا ہے ۔ مجھے ایک دم خیال آیا کہ سلیمی نے ابن صفی کے انداز کی کوئی داستان بنانے کی کوشش کی ہے۔ میں کتاب بند کرنے لگی تو کافکا نے کتاب سے نکل کر مجھے کہا ’’ذرا آگے بڑھو، یہ تو محض چند صدیوں کی تلاش ہے دیکھا نہیں کہ میں بھولے ہوئے زمانوں کو زندہ کرتا رہا اور تم لوگ شوق سے پڑھتے رہے۔ اب میرے اندر بھی سلیمی نےاس زمین کا جنوب تلاش کرنے کے لئے جستجو کوجگادیاہے۔ سینکڑوں میل کا سفر، بس اس بستی سے نکل کر اپنے وجود کے ساتھ زندہ مل جائیگا۔اب ایک طرف سلیمی کی تحریر میں جملہ بنانے کا خوبصورت پیرایہ، دوسری طرف اس کی پڑھی ہوئی لوک روایتوں میں ایک شہر کا نام کئی قدیم کتابوں میں نظر آتا تھا اور کافکا کے اصرار پر شہر تمثال کی تلاش میں پہلے قدیم لائبریریوں اور قدیم کتابوں کی تلاش جس نے حوصلہ دیا کہ جس شہر کی تلاش ہے، کوشش جاری رکھو، اب اسے پھر اندھا ناول نگار اور بورخس مل کر دیس کی کہانی اور اس سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے خاندانی قبرستانوں اور اجڑی بستیوں سے گزر کر خفیہ کتابوں کی مدد سے شہر تمثال تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ بھی واہمہ ہے کہ سچ۔
یہاں پھر گھبراہٹ پڑھنے والوں کو ہوتی ہے کہ اس بستی کا سربراہ تو ہمارے سیاسی چمتکاروں کی طرح کا ہے۔ اسکے ہاتھ میں جو آئینہ ہے۔ اس آئینے سے پوری بستی کے ہر شخص کا احوال، بالکل افغانستان میں موجود طالبان حکومت جیسا ہے کہ جو ذرا سر اٹھائے ، زندگی کی انتہا کو پہنچ جائے۔سلیمی نے خفیہ اشارے بھی شہر تمثال کے سربراہ کے تخلیق کیے، وہ ذہنی طور پر یہیںہے۔ واپس آئیے ہم شہر تمثال کے اندر جھانکیں ، اس میں تو کتاب النور بھی شامل ہے۔ جہاں قانونی موشگافیاں کی وضاحت، بصارت اور شعور کے نکات (بالکل پاکستانی انداز) ۔ سلیمی نے تو اس قانونی آئینی تفاصل کو بیان کرنے کیلئے دس باب مختص کیے ہیں اور یہ سب کچھ جوہو رہا ہے شہر تمثال دار کے آئینے میںمنعکس ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ آئینہ سچ نہیں متضاد کیفیات منعکس کرتا ہے۔ اس لیے وہ ان تضادات کے بارے میں لکھتے ہوئے کبھی سیموئیل بیکٹ کے گڈو، منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ہیرو، کافکا کے جوزف اور منٹو ہی کے منگو کو چوان کے کرداروں کو اس ناول میں سموتے ہوئے ایسی فضا تخلیق کرتا ہے کہ یہ شہر تمثال دار ہے بھی کہ نہیں۔
ہر ناممکن کو ممکن بنانا، سلیمی نہ ابن صفی بنا اور نہ بورخس، اسے تلاش تھی کہ یبوست زدہ مصنوعی اسلامی سلطنت کے بہروپ کوسوسال پہلے کے زمانے میں تلاش کرے۔ اس کی تلاش میں تاریخ کا ورق ورق ڈھونڈا گیا۔ خیالی دیس کے ذریعے اس بیانئے اور ناول کو مرتب کرتے ہوئے بہت کمال کا منظر نامہ تخلیق کیا، مگر اپنی زمین اور رشتوں کو ناول کا وہ فریم ورک دیا ہے کہ یہ مشکل ناول ختم ہونے کے بعد، قاری سے پوچھتا ہے ’’سینکڑوں سال پہلے بھی نادر شاہی حکم چلتا تھا‘‘ مصنف پاکستان میں موجود ہے۔