• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکہ جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ابھی تک یہ جنگ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ موجودہ سطح پر رک بھی گئی تب بھی اس 40 روزہ جنگ کے عالمی معیشت پر پڑنے والے نقصانات کو پورا کرنے میں کئی سال لگ جائیں گے اور خدانخواستہ اگر یہ جنگ نہ رک سکی تو تباہی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلی ایسی جنگ ہے جس سے دنیا کا ہر ملک متاثر ہو رہا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں تیل پیدا کرنے اور تیل خریدنے والے تمام ممالک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں خوفناک اضافہ ہو رہا ہے ،جس سےدنیا کے اکثر ممالک میں برسر اقتدار قوتوں کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہونے، حکومتیں تبدیل ہونے اور طبقاتی کشمکش تیز تر ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گویا پورا کرہ ارض عدم استحکام کی گہری دلدل میں گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور عالمی سطح پر نئی گروہ بندیوں کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد بننے والے ورلڈ آرڈر میں امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور انہوں نے حالیہ جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ خصوصاََ برطانیہ جسے امریکہ کا سب سے بڑا اور وفادار ساتھی سمجھا جاتا تھا اور جس نے عراق ایران جنگ میںامریکہ کے بقول’ بڑی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تباہی‘ جیسے من گھڑت مفروضوں کی کھل کر حمایت کی تھی اور جس پر اس وقت کی اپوزیشن پارٹی نے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر پر کھل کر تنقید بھی کی تھی اور ٹونی بلیئر نے اسے اپنی غلطی کے طور پر تسلیم بھی کیا تھا کیونکہ پورے خطے کو تباہ کر دینے کے بعد عراق سے ایک بھی ایسا ہتھیار برآمد نہیں ہوا تھا ۔یہی حال فرانس جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کا ہے۔ جنہوں نے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ یہ جنگ ہماری نہیں ۔ اس سے نہ صرف امریکہ کی سبکی ہوئی ہے بلکہ نیٹو جیسا اتحاد بھی ٹوٹنے کے قریب ہے جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی حفاظتی چھتری کا تصور بھی پاش پاش ہو گیا ہے کیونکہ امریکہ خلیجی ممالک کو ایران کے حملوں سے کما حقہ بچا نہیں سکا ۔اس ساری صورتحال میں علاقائی طاقتوں اور انکے اتحاد کی ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ جس میں پاکستان اور چین کا کردار بہت اہم ہوتا جا رہا ہے مئی 2025 میں ہونے والی پاک بھارت جھڑپ میں پاکستان کی واضح فضائی برتری اور چین کے جدید ترین مگر نسبتاََ سستے طیاروں کی شاندار کارکردگی نے عالمی سطح اور خصوصاََ خطے میں ان دونوں ممالک کی اہمیت کو دو چند کر دیا ہے۔ اس کے بعد حالیہ امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کی حکومتی اور عسکری قیادت نے جنگ بندی اور خطے میں دیر پا امن کے حوالے سے جو انتھک کوششیں کی ہیں جن کا سلسلہ ابھی جاری ہے اس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان دہشت گردوں کی بجائے امن کے پرچارک ملک کی حیثیت سے سامنے آیا ہے اور ہر طرف اس کی تعریف ہو رہی ہے ۔

آج ہمارے لیے بھی پاکستانی ہونا ایک اعزاز سے کم نہیں ۔ پوری دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس پر فریقین سمیت ساری دنیا کو اعتماد ہے اور اگر امریکہ اور ایران کا نصف صدی پرانا مسئلہ پاکستان کی وجہ سے حل ہو جاتا ہے یا کم از کم تیسری عالمی جنگ کا خطرہ فوری طور پر ٹل جاتا ہے تو یہ وہ کارنامہ ہوگا جسکے پاکستان کے مستقبل پر دورس مثبت نتائج ہوں گے۔ پاکستان کی عزت افزائی کو جہاں ساری دنیا سراہ رہی ہے وہاں کچھ ممالک جن میں بھارت اور اسرائیل پیش پیش ہیں اپنی طرح طرح کی حرکتوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ان کاوشوں کا مذاق اڑانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ تو ہمارے ازلی دشمن ہیں ہی لیکن پاکستان کے اندر بھی ہمارے دوست نما دشمنوں کی کمی نہیں جو محض بغض میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں ملکی مفاد بھی نظر نہیں آتا۔ ایسے لوگوں میں بیرونِ ملک بیٹھے ہوئے جھوٹ بریگیڈ کے وہ ٹرولرزہیں جو اپنے بھونڈے مفروضوں سے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ آج کل پی ٹی آئی کے ایک عمران ریاض خان نامی ٹرول نے اپنے مرشد کے بارے میں ایک عجیب منطق پیش کی ہے انہوں نے فرمایا ہے کہ عمران خان کو امریکہ کے کہنے پر اس لیے حکومت سے نکالا گیا تھا کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرنا تھا اور عمران خان کی موجودگی میں ایسا ممکن ہی نہیں تھا۔

موصوف نے اسی سانس میں ایک اور جھوٹ یہ بولا ’یہی وجہ ہے کہ سعودی پرنس محمد بن سلمان نے عمران خان کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ عمران خان تو امریکی دورے کے بعد ٹرمپ کو اپنا دوست قرار دیتے رہے ہیں اور پی ٹی آئی والے ان کے صدر بننے کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ پہلا حکم عمران خان کو رہا کرنے کا دیں گے ۔دوسری بات یہ کہ محمد بن سلمان نے تو خان صاحب کو اپنےطیارے سے اتار دیا تھا۔ تاریخ کے اس نازک موقع پر ہمیں اپنے بیرونی عیار دشمنوں سے زیادہ اندرونی بے وقوف دوستوں سےہو شیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آج کا شعر

جھوٹ بولو مگر اتنا بھی نہیں

سچ بھی بولو تو نہ مانے کوئی

تازہ ترین