• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرنس ولیم سالانہ 70 لاکھ ٹیکس ادا کرتے ہیں، آمدنی کتنی ہے؟

فوٹو: برطانوی میڈیا
فوٹو: برطانوی میڈیا 

برطانیہ کے ولی عہد پرنس ولیم کی آمدن اور ٹیکس ادائیگی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ان کی زیادہ تر آمدن ڈچی آف کارن وال سے حاصل ہوتی ہے، وہ ہر سال تقریباً 70 لاکھ پاؤنڈ تک انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اور ملک کے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اسٹیٹ ہر سال تقریباً 2 کروڑ پاؤنڈ منافع دیتی ہے جبکہ اس کی مجموعی مالیت لگ بھگ 1.1 ارب پاؤنڈ ہے۔ یہ جائیداد 14ویں صدی سے ہر برطانوی ولی عہد کو منتقل ہوتی آ رہی ہے۔

برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز  کے مطابق پرنس ولیم اپنی ذاتی آمدن پر رضاکارانہ طور پر 45 فیصد تک ٹیکس ادا کرتے ہیں، حالانکہ انہیں قانونی طور پر اس کی پابندی نہیں ہے۔ یہ روایت ان کے والد کنگ چارلس سوم نے بھی قائم کی تھی، جنہوں نے اپنے دور میں لاکھوں پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرنس ولیم کو اپنی ڈچی کی آمدن سے سرکاری اخراجات نکالنے کی اجازت ہوتی ہے، جس کے بعد باقی رقم پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ کن اخراجات کو ٹیکس میں رعایت کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

ڈچی آف کارن وال کی بنیاد 1337 میں کنگ ایڈورڈ سوم نے رکھی تھی تاکہ اپنے بیٹے اور ولی عہد کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ آج یہ اسٹیٹ انگلینڈ اور ویلز کے 23 علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور اس میں ہزاروں جائیدادیں شامل ہیں۔

مالی سال 24-2023 کے دوران اس اسٹیٹ نے ریکارڈ 23.6 ملین پاؤنڈ منافع دیا، جس میں سے اندازاً 13.5 ملین پاؤنڈ ٹیکس کے دائرے میں آیا اور اس پر تقریباً 50 لاکھ سے 70 لاکھ پاؤنڈ تک ٹیکس ادا کیا گیا۔

تاہم اس نظام پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس اسٹیٹ نے فوج، نیوی، این ایچ ایس اور تعلیمی اداروں سے زمین اور وسائل کے استعمال پر فیس وصول کر کے لاکھوں پاؤنڈ کمائے، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

کینسنگٹن پیلس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پرنس آف ویلز اپنی تمام ذاتی آمدن پر مکمل ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس میں ڈچی سے حاصل ہونے والی آمدن بھی شامل ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید