• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو سال سے کم عمر بچوں کیلئے اسکرین ٹائم خطرناک، ماہرین کا انتباہ

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ 2 سال سے کم عمر بچوں کو موبائل، ٹیبلٹ، ٹی وی یا دیگر اسکرینز کے سامنے بٹھانا ان کی صحت اور نشوونما پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

یونیورسٹیز آف لیڈز کے محققین نے ایک جامع جائزہ لیا، جس میں معلوم ہوا کہ کم عمری میں اسکرین کے سامنے وقت گزارنے سے بچوں کی مجموعی صحت اور معیارِ زندگی متاثر ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسکرین ٹائم سے جن مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ان میں زبان سیکھنے اور بولنے کی صلاحیت کی رفتار سست ہونا، نیند کے مسائل اور بے قاعدگی، آنکھوں کی صحت متاثر ہونا اور موٹاپے کے خطرات میں اضافہ شامل ہے۔

محققین نے یہ بھی بتایا کہ اسکرین کے زیادہ استعمال سے دیگر منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن میں بچے کا حد سے زیادہ ذہنی طور پر متحرک (Overstimulated) ہو جانا، جذبات کو سنبھالنے کے لیے ڈیجیٹل ڈیوائسز پر انحصار بڑھ جانا، والدین کے ساتھ تعلق اور وقت گزارنے کے مواقع کم ہونا، ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے اور سماجی مہارتیں سیکھنے کے مواقع محدود ہونا شامل ہیں۔

تحقیق کے مرکزی محقق ریف کلیٹون نے کہا ہے کہ زندگی کے ابتدائی اور نہایت اہم برسوں میں اسکرین کا سامنا پوری نسل کی مستقبل کی صحت اور معیارِ زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

محققین نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کے لیے موزوں قرار دیا جانے والا مواد والدین تک پہنچانے کے طریقۂ کار پر نظرثانی کریں اور بچوں کے تحفظ کے لیے مزید ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو صرف غیر ڈیجیٹل کھلونے فراہم کرنے سے ان کی کھانے کی عادات بہتر ہو سکتی ہیں، جبکہ انہیں باہر کھیلنے اور قدرتی ماحول میں وقت گزارنے کی ترغیب دینے سے اسکرین ٹائم کم کرنے، جسمانی نشوونما بہتر بنانے اور آنکھوں کی صحت کو فروغ دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

طبی ماہرین عموماً مشورہ دیتے ہیں کہ 2 سال سے کم عمر بچوں کے لیے غیر ضروری اسکرین ٹائم سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے اور اس عمر میں سیکھنے، کھیلنے اور والدین سے براہِ راست میل جول کو ترجیح دی جائے۔

خاص رپورٹ سے مزید