غزہ میں جاری تباہی اور انسانی بحران کے درمیان نئے اور مہنگے کیفے اور ریستوران کا قیام ایک متضاد حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان خوبصورت مقامات کی تصاویر کو بعض حلقے معمول کی زندگی کی جانب واپسی کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مشاہدات میں سامنے آیا ہے کہ غزہ سٹی کے ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان جدید طرز کے کیفے قائم کیے گئے ہیں جو مہنگے ساز و سامان اور آرائش سے مزین ہیں۔
یہ مناظر ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقے کی اکثریت شدید غربت، بے گھر اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہے۔
الجزیرہ کے مطابق جنگ کے دوران ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے والے محدود افراد نے دولت کمائی ہے جس کے نتیجے میں ایک نیا مراعات یافتہ طبقہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔
اس کے برعکس عام شہری خوراک، پانی اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عام ریستوان میں بھی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔
یہ صورتِ حال غزہ میں بڑھتی ہوئی معاشرتی ناہمواری اور جنگ کے طویل المدتی اثرات کی عکاسی کر رہی ہے۔