• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سالانہ رپورٹ آگئی

تصویر، سوشل میڈیا
تصویر، سوشل میڈیا

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ہیومن رائٹس کمیشن نے سالانہ رپورٹ جاری کردی۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں جبری گمشدگیوں کے 273 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، سب سے زیادہ کیسز خیبر پختونخوا سے سامنے آئے۔

ستائیسویں آئینی ترمیم سے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، ایگزیکٹو کو ججز کی تقرری میں براہ راست اختیار حاصل ہوگیا۔ 

رپورٹ کے مطابق اے ٹی سی ترمیمی ایکٹ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہریوں کی 3 مہینے تک حراست کی اجازت ملی۔

سال 2025ء میں سزائے موت کی شرح میں اضافہ ہوا، سال 2024ء میں 174 جبکہ 2025ء میں ماتحت عدالتوں سے 225 سزائے موت سنائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں 1 ہزار 272 دہشت گرد حملے اور انسداد دہشت گردی کارروائیاں ہوئیں، دہشت گردی کے واقعات میں 3 ہزار 417 اموات، 2 ہزار 134زخمی ہوئے۔

ایچ آر سی پی رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کا مسئلہ برقرار ہے، صوبائی جیلوں میں گنجائش 64 ہزار 550 کے مقابلے میں1 لاکھ 10ہزار 402 قیدی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی میں 64 ہزار مجرمانہ واقعات ہوئے، جن میں70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اوور کراؤڈنگ کی شرح 171 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ملک بھر میں 1 ہزار 6 سو سے زائد مشتبہ افراد پولیس مقابلوں میں مارے گئے، زیادہ تر پولیس مقابلے سی سی ڈی پنجاب نے کیے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے 143 ممالک میں سے 130ویں نمبر پر آیا۔

قومی خبریں سے مزید