• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بقول شخصے شاعری میری پہلی محبت تھی لہٰذا اس کا حشر بھی پہلی محبت والا ہوا لیکن اس دوران ادبی محافل میں اتنی زیادہ شرکت رہی کہ بعض اوقات کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا تھا سو شاعروں ادیبوں کو مجھ سے زیادہ اگر کوئی جانتا ہے تو وہ بھی میں ہی ہوں۔ملتان کے پرانے دوستوں کو وہ واقعہ یاد ہوگا جب نواں شہرچوک پر دو شاعروں کی اس بات پر لڑائی ہوگئی تھی کہ فلاں غزل کی ’زمین‘ میری ہے۔ پولیس والے آئے تو اُنہیں بات کی سمجھ ہی نہ آئی۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے تھے کہ معاملہ کیا ہے اور پولیس والے سرکھجاتے ہوئے بتاتے تھے کہ کسی ’زمین‘ کا جھگڑا ہے۔ایک طرف تو ہم شاعر ادیب شور مچاتے ہیں کہ ہمیں معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی دوسری طرف عزت ملے تو تباہ کن حملے شروع ہوجاتے ہیں کہ فلاں کو ایوارڈ کیوں ملا، فلاں کو ادبی میلے میں کیوں بلایا گیا۔ حال ہی میں اکیڈمی آف لیٹرز نے اُستاد محترم عطاء الحق قاسمی کو کمال فن ایوارڈ سے نوازا ہے۔ یہ ایوارڈ اس سے پہلے بھی کئی سینئر ادیبوں کو دیا جاچکا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس پر بھی ان لوگوں کی طرف سے تنقید کے نشتر برسنا شروع ہوگئے جنہیں یا تو یہ یقین ہے کہ یہ ایوارڈ اُنہیں ملنا چاہیے یا یہ یقین ہے کہ اُن کانمبر کبھی نہیں آئیگا۔قاسمی صاحب سے ہمیشہ مجھے شکایت رہی ہے کہ وہ دوست دشمن میں کبھی پہچان نہیں رکھتے۔حالیہ تنقید میں ایک ایسے صاحب کو بھی اس ایوارڈ پر زہر کے تیر برساتے دیکھا جو قاسمی صاحب سے محبت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ اُنکے کام پر مضامین اور کتاب لکھ چکے ہیں۔اُن کے کمنٹس فیس بک کی ایک پوسٹ پر دیکھے تو حیرت کا شدید جھٹکا لگاکہ محض سیاسی مخالفت کی وجہ سے دل میں کیسا زہر رکھے ہوئے ہیں۔قاسمی صاحب کا ادبی کام اِن ایوارڈز سے کہیں اوپر کا ہے۔پرائڈ آف پرفارمنس سے لے کر نشان امتیاز تک میں نے کبھی انہیں کسی ایوارڈ پر بہت زیادہ خوش نہیں دیکھا۔کل ایک ہوٹل میں برادرم عذیر احمد نے کمالِ فن ایوارڈ ملنے پر اُن کے ساتھ ایک ڈنر کا اہتمام کیا تو وہاں بھی قاسمی صاحب حیرت سے پوچھ رہے تھے کہ کمالِ فن ایوارڈ کا سلسلہ توختم نہیں ہوچکا؟۔کچھ لوگوں سے دوسروں کی کامیابی ہضم نہیں ہوتی اُن کا بس نہیں چلتا کہ کسی کو ملنے والی عزت چھین کر دریابرد کردیں۔ایک مرحوم سینئر ادیب کا قصہ تو بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا۔ جب انہیں ایوارڈ ملا تو رونے لگ گئے۔ وجہ پوچھی تو ہچکیاں لیتے ہوئے بولے’اگلے سال یہ ایوارڈ کسی اور کو مل جائے گا۔

٭ ٭ ٭

ڈاکٹرعائشہ عظیم کاتعلق درس و تدریس سے ہے لیکن مزاح بھی لکھتی ہیں اور ریسرچ ورک بھی کرتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے عطاء الحق قاسمی صاحب کو لکھے گئے مشاہیر کے خطوط جمع کیے اور انہیں کتابی شکل دی۔ یہ کتاب”مشاہیر کے خطوط عطاء الحق قاسمی کے نام‘ سے شائع ہوئی۔ کتاب کی تقریب رونمائی میں حسب معمول کچھ ’بچھو‘ بھی موجود تھے جنہوں نے سرگوشیوں میں سوال اٹھایا کہ فلاں صاحب جن کا خط کتاب میں شامل کیا گیا ہے وہ کب سے ’مشاہیر‘ میں شامل ہوگئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو مشاہیر سے مراد’فلاسفر‘ لے رہے تھے۔

ان کی اطلاع کیلئے عرض کیا کہ مشاہیر سے مراد مشہور لوگ ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ شاعر ادیب ہی ہوں۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ لوگ اتنی مصروفیت سے وقت نکال کر تقریب میں بھی آئے، قاسمی صاحب کو مبارکباد بھی دی اور چالاک رشتے داروں کی طرح ایک طرف بیٹھ کر اپنی منافقت کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ایسے لوگ کسی کے نہیں ہوتے۔یہ وہی ہوتے ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ سوتے میں بھی دانت کچکچاتے رہتے ہیں۔ منیر نیازی صاحب کیساتھ میرا بہت وقت گزرا ہے۔ایک دفعہ ان کی محفل میں ایک ایسے ہی منافق شاعر کا ذکر چل رہا تھا۔ بات تھوڑی لمبی ہوگئی تو نیازی صاحب نے کمال کا جملہ کہا۔کہنے لگے’یہ بندہ اپنی عدم موجودگی میں بھی لوگوں کا وقت ضائع کرتا رہتا ہے‘۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ بات بات پر دوستوں کے خلاف چہ میگوئیاں کرتے ہیں وہ اپنی خامیاں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ بظاہر آپ کے خیر خواہ لگتے ہیں لیکن موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے ڈسنے سے باز نہیں آتے۔

٭ ٭ ٭

آج کل فیشن بنتا جارہا ہے کہ اشفاق احمد کیخلاف نئی نئی باتیں گھڑی جائیں۔کہا جائے کہ یہ لوگ تو معاشرے کو اپنی تحریروں کے ذریعے افیم کی گولیاں بیچتے تھے تاکہ لوگ مدہوش رہیں۔ بابوں او ر صوفیوں کے نام پر انہوں نے جھوٹ لکھااور پڑھنے والوں کو گمراہ کیاحالانکہ انہیں معاشرے میں علم بغاوت بلند کرنا چاہیے تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر شاعر کو حبیب جالب ہونا چاہیے یا ہر ادیب کو منٹو کی طرح لکھنا چاہیے۔کیا ادب یک رنگی ہونا چاہیے کیونکہ یہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے؟اشفاق صاحب کے ہاں بابے جھوٹے تعویز نہیں دیتے، نذرانے نہیں لیتے۔یہ کردار کسی نہ کسی اخلاقی بات کو سمجھانے کیلئے وجود میں آتے ہیں۔کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا؟ معاشرے میں اخلاق اور محبت کا پرچار کرنا اتنا بڑاجرم ہے؟ پورا زور لگا کر ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اشفاق احمد کسی ایجنڈے کے تحت لکھتے تھے۔یہ ایجنڈا کیا تھا، کس کا تھا اور اشفاق احمد کو اس کا کیا فائدہ ہوا یہ کوئی نہیں بتاتا۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہر ادیب باغیانہ تحریریں لکھے اوروہی کچھ لکھے جو ہمارے خیال میں درست ہے۔اشفاق صاحب کا بابا ایک Wise Old Manہے جو روحانی بالیدگی کا تعلق معاشرتی اخلاقیات سے جوڑتاہے۔میں جب بھی اشفاق صاحب کو پڑھتاہوں نہ صرف ان کی نثر کا لطف لیتا ہوں بلکہ عقل کو جھنجھوڑنے والے جملے بھی دل میں پیوست ہوجاتے ہیں۔اُن کو پڑھنے والوں کی کثیر تعداد اِسی عمل سے گزرتی ہے اورپسندکرتی ہے لیکن ہمارے ہاں چونکہ ہر بڑے آدمی پر پتھر پھینکنابہادری کی علامت سمجھا جاتا ہے لہٰذا اشفاق احمدبھی نشانہ ہیں۔

تازہ ترین