’’میر غوث بخش بزنجو کی طبیعت بہت خراب ہے‘‘، ’’میر صاحب پر بے ہوشی طاری ہے‘‘،’’بزنجو صاحب انتہائی نگہداشت کہ یونٹ میں منتقل کر دیئے گئے‘‘، ’’ڈاکٹروں نے جواب دیدیا ہے..."ایسی خبریں تواتر سے شائع ہو رہی تھیں میر غوث بخش بزنجو اس نام کے ساتھ ہی ذہن میں ایک طویل جدوجہد ابھر آتی ہے پہاڑوں ساحلی چٹانوں اور سبزہ زاروں کی سیاست کے رزمیہ نغموں کا سلسلہ بھی در آتا ہے مڈ ایسٹ میڈیکل سینٹر کے کمرہ نمبر 95 میں بہت سے احباب افسردہ بیٹھے ہیں، باہر برآمدوں میں چپ سادھے سوالیہ نشان چہروں پر لئے بہت سے لوگ ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ میر صاحب کبھی کبھی ہوش میں آتے ہیں اور اشاروں سے کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نصف صدی سے زائد جدو جہد اب آخری ہچکی لے رہی ہے اور پھر صبح تین بجے میر غوث بخش بزنجو کی آخری سانس کے ساتھ برصغیر ہند و پاک کا یہ غیر معمولی سیاستدان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیا ۔جب مجھے اُن کے انتقال کی خبر ملی تو میرے ذہن میں دھماکہ نہیں ہوا بلکہ دھماکے کے بعد جو سناٹا سا پیدا ہوتا ہے اس نے میری سوچ کو گھیر لیا کتنا کرب تھا اس سناٹے میں جس نے ہر آواز کا گلا گھونٹ دیا تھا ہر سسکی اپنا مفہوم کھو چکی تھی اور ہر چیز جیسے غیر ضروری ہو گئی تھی ۔اپنے ناول "ماں" میں گور کی نےلینِن کے متعلق لکھا تھا "وہ سادہ مزاج ہے سچ کی طرح سادہ" گورکی نے یہ بات اس طرح کہی تھی جیسے اس نے کافی عرصہ غور کیا ہو اور یہ رائے قائم کی ہو غوث بخش بزنجو کیلئے بھی یہ بات یقین سے کہی جاتی ہے کہ یہ ان کانمایاں وصف تھا۔میر صاحب کی زندگی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ عظیم انسان اور با اصول سیاستدان عہدِ حاضر کے نوار دات میں سے تھے وہ ہمیشہ اپنے ارد گرد کی زندگی سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔ ان میں توجہ مرکوز کرنے کی بے پناہ صلاحیت پائی جاتی تھی وہ انتہائی خوش مزاج اور مستقل مزاج آدمی تھے ،جنہیں خودپر بے حد قابو تھا یہی وجہ ہے کہ وہ بہت بڑے رجائیت پسندتھے ۔ میر غوث بخش بزنجو سے میری واقفیت کا آغاز نیشنل عوامی پارٹی سے ہوا یہ واقفیت ذاتی نہ تھی بلکہ پارٹی کے حوالے سے تھی انہی دنوں وہ لاہور آئے تو امین مغل اور شمیم اشرف ملک نے ان سے میرا تعارف کرایا اس شناسائی نے مجھ پر ایک ایسا انمٹ نقش چھوڑا جو پارٹی میں میرے تمام تر کام کے دوران محو نہ ہو سکا ولی خان ،عطاءاللہ مینگل ،خیر بخش مری ،جمل خٹک... لیکن جب میں بزنجو صاحب کی سادگی وسچائی، عوام دوستی ،جمہوریت پسندی اور انقلابی سرگرمیوں سے واقف ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ بزنجو ایک غیر معمولی شخصیت کے حامل انسان تھے میری نگاہ میں وہ نیشنل عوامی پارٹی کے محض رہنما ہی نہ تھے بلکہ اسکے حقیقی بانی بھی تھے۔
اس لیے کہ وہی ہماری پارٹی کی عوامی ماہیت اور اسکے فوری تقاضوں سے واقف تھے۔میں نے ان کا مقابلہ اپنی پارٹی کے دوسرے رہنماؤں سے کیا توانہیں ہرحوالے سےایک اعلیٰ درجےکا رہنما پایا ، جو پاکستان میں انقلاب کے ان دیکھے راستے پر پارٹی کی جرات مندانہ انداز میں رہنمائی کیا کرتے تھے۔ بزنجو صاحب سے میری پہلی ملاقات لاہور میں پارٹی کے دفتر میں ہوئی تھی میں اپنی پارٹی کہ اس رہنما سے ملنے کا مشتاق تھا اُس عظیم انسان سے جو نہ صرف سیاسی اعتبار سے عظیم تھا بلکہ خود کو ذہنی طور پر بھی ان کے بہت قریب پاتا تھا۔ انہیں اس وقت بین الاقوامی شہرت تو حاصل نہ تھی لیکن اکثر بین الاقوامی شہرت یافتہ سیاست دانوں سے میں انہیں کہیں بلند تر سمجھتا تھا زندگی سے محبت، انسان سے پیار، سیاست سے دیوانہ وار لگاؤ اور ملک بھر کے سنجیدہ مزاج عوام میں ہر دل عزیز تھے وہ اپنی سادگی، سچائی ، حتیٰ کہ تلخی کے اندر بھی ایک ایسے شریں حُسن کی نیو رکھتے تھے جسکے حصول کیلئے انسان کا سینہ آج تک ترس رہا ہے۔ نیشنل عوامی پارٹی کا منشور غوث بخش بزنجو کی ذہنی عرق ریزی کا حاصل تھا میرے خیال میں ان کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ انہیں انسان پر نازل ہونے والی مصیبتوں دکھوں تکلیفوں سے سخت بیر تھا انہیں کامل یقین تھا کہ مصائب و آلام انسانی زندگی کے لیے ناگزیر نہیںہیں بلکہ ایسی مکروہ چیزیں ہیں جن سے انسان کو قطعاً چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے میں ان کے کردار کے اس خاص الخاص وصف کو ایک مادہ پرست کی عظیم رجائیت کہتا ہوں، پاکستان کےدیمک زدہ معاشرے سے یہ شخص مہلک بیماری کا تحفہ لے کر بغرض علاج لندن پہنچا، ڈاکٹروں نے کینسر کی آخری سٹیج تشخیص کی یہ جو اپنی فکر کرنا نہ جانتا تھا۔
یہ جو رفیقوں کی ہمہ وقت فکر رکھتا تھا اس بھاری آواز والے مضبوط قوت ارادی کے مالک آدمی نے ایک ہاتھ سے اپنی سقراط جیسی پیشانی کو رگڑتے ہوئے کہا "اس معاشرے میں جہاں اوسط عمر تیس پینتیس سال تک بھی نہیں پہنچتی میں 72برس جیا ہوں ،فکر کی کوئی بات نہیں ڈاکٹر"۔ اس بہتر 72سالہ تاریخ ساز شخصیت جو ایک فرد نہیں بلکہ ادارہ بن چکی تھی کی طویل سیاسی زندگی کا باپ اس دن ختم ہو گیا جب لندن میں ڈاکٹروں نے ان کا مرض لاعلاج قرار دے دیا تھا اور یوں یہ جمہوریت عوام کے حقوق اور آزادی کی خاطر جمہوریت دشمن قوتوں سے لڑنے والا جمہوریت پسند سوشلسٹ بلند پایا پارلیمنٹیرین اور با اصول سیاستدان موت سے ہار گیا۔