• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب کوئی مسئلہ ٹیڑھا ہونے لگے تو کبھی جاتی امرا سے یا کبھی جھیکا گلی سے بلاوا آجاتا ہے۔ بلاوا بھی ایسا سخت ہوتا ہے کہ بقول غالب بِن آئے نہ بنے مثلاً گلگت بلتستان میں الیکشن کا مسئلہ تھا حکومت ایران اور امریکہ کے معاملات میں الجھی ہوئی تھی۔مگر دیکھنے میں آیا، پوری کابینہ کو حاضری کیلئے کہا گیا اور گلگت کے امیدواروں کو بھی بلایا گیا۔ ساڑھے چھ سوامیدواروں میں ایک بھی خاتون کا نام نہیں تھا۔ حاضر کابینہ تو خیر"جی سرکار" ہیں۔ اس میں تو انکی بیٹی مریم بھی موجود تھیں جو مختلف شعبوں کے علاوہ خواتین کیلئے اہم ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ معلوم نہیں باپ، بیٹی کے درمیان کوئی گفتگو اس سلسلے میں ہوئی کہ نہیں کہ بلتستان کے علاقے میں209خواتین تو ہونی چاہئیں۔

پیٹرول کے مسئلے پر بھی جاتی امرا سے کلاس لی گئی۔فوراً12روپے کم کرکے شہیدوں میں نام لکھوایا گیا، بعد میں400روپےلٹر ایک دم کردیاگیا کہ ایران، امریکہ لڑائی کے سامنے، صلح کرانے کی کلید ہاتھ میں تھی۔ جواب تک ہے۔ ملک کواس سے فائدہ نہیں کہ امریکہ نہیں اب چین ہمارا سر پرست ہے۔میں بذات خود ،بڑےمیاں صاحب کو اس وقت سے جانتی ہوں جب میں ادب لطیف کی ادارت کررہی تھی۔ آپ ریڈیو پاکستان کے ساتھ بنی بلڈنگ میں اتفاق کے دفتر میں بیٹھتے تھے۔ مجھ پر یہ خاص عنایت تھی کہ ادب لطیف کیلئے اشتہارات کے ساتھ رقم بھجوادیتے۔ حبیب جالب کیلئے جب مسئلے حل کرنے کو کہتی بغیر جالب کو بتائے مسئلہ حل کروادیتے تھے۔ پہلے الیکشن میں کلثوم بھی مجھے فون کرکے غیر ملکی صحافیوں کوصاحب کا انٹرویو کرنے کیلئے بلاتی تھیں۔

خیر یہ تو چالیس پچاس سال پرانی باتیں ہیں آجکل تو تازہ بہ تازہ ون کانسٹیٹیوشن عمارت میں رہنے والے لوگوں کو فلیٹوں میں جگا کر سامان سمیت نکلنے کا کہاگیا تواسلام آبادپورا ہل گیا۔ حالانکہ اسلام آباد میں آدھی سے زیادہ عمارتیں بنانے والوں نے اپنے پیسے کھرے کیے۔ باہر اکاؤنٹ کھلوایا، عیش بھی کیے اور سرخ رو بھی کہ اگر ہم بلڈنگیں نہ بناتے توبلیو ایریا کیسے بنتا؟

بڑے صاحب کو چونکہ مری پسند ہے اس لئے مری کے راستے ادھڑے ہوئے ہیں کہ انکی فرمائش اور تاکید پر مریم بی بی الیکٹرک ٹرین چلانے میں منہمک ہیں۔ سچی بات بتاؤ،اس زمانے میں جوبھی مری گیا ہے۔ بی بی کی تعریف کہ شہر کی صفائی ستھرائی کے علاوہ تمام دکانوں کو اپنی حدود میں رہنے کیلئےقائل کیا کہ مال روڈ پر جو جہاں چاہتا اپنا چھاتہ لگالیتا تھا۔ کئی اور شہروں سے بھی اطلاع ہے کہ ہر شہر میں کچھ کھوکھے غریبوں کو اسٹال لگانے کیلئے دیئے گئے ہیں۔ صفائی میں بھی پنجاب اسلام آباد سے کہیں آگے ہے۔ میرے اپنے گھر یعنی فلیٹ کے سامنے گندگی کا ڈھیر جب تک شکایت نہ کی جائے ، کوئی اٹھانے نہیں آتا ہے ۔ سی ڈی اے میں تو بے چارہ خاکروب مرجائے تواسکے خاندان کو پنشن لینے کیلئے دوشرطیں رکھی جاتی ہیں۔ اگر پیسے لینے ہیں تو آدھےآدھے کرلو، ورنہ پھر جوتیاں گھسیٹو۔ خاکروب جسکی بیوہ ڈائلسز کیلئے ہر تیسرے دن جاتی ہے۔ اسکو سینکڑوں دفعہ بلاکرانگوٹھا لگوایا جاتا ہے یہ سارا نقشہ ایک سال سے دیکھ رہی ہوں۔ سب نے بتایا یہاں سفارش نہیں چلتی، بس پیسہ چلتا ہے۔

اب انڈیا کو دیکھیں۔ صبح خبروں میں آرہا تھا کہ شرطیں لگانے والوں نے پاکستان ٹیم کوجتوادیا۔ باہر کے اخباروں میں تونام لیکر شرطیں لگوائی گئیں کہ ایران پر حملہ کب اور کون کرےگا۔ اگر ملکوں کی معیشت ایسے چلنے لگے کہ پولیس آکر عمارت میں رہنے والوں کو پیغام دے بارہ، پندرہ سال پہلے جب فلیٹ خریدا تھا۔ وہ رسید لے آؤ یاہم جو پیسے دیں قبول کرو کہ ہم نےیہاں 5اسٹار ہوٹل بنانا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ڈالر نے روپے رکھنے والوں کو کیسے بے آبرو کیا ہے رہائشی افراد میں سے کسی کے پاس فلیٹ کی قیمت کی رسید نہیں ہے۔

گزشتہ دوسال سے تقریروں میں، اشتہاروں اور بلڈنگوں پر ووکیشنل کالج کے بورڈ لگے دیکھے ہیں۔ وہاں کیا نصاب بنایا گیا، وہاں کون سے استاد رکھے گئے۔ اس کو جانے دیں۔ یہ بتائیں وہ جو چھ چھ مہینے میں کاریگر تیار کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔ انکی جھلک تو دکھلائیں کہ سب مستری، لوہار، درزی، پتھر توڑنے والے اور مسالے پیسنے والے تواپنے خاندانی طریقوں پر ہی کام چلارہے ہیں۔مجھے ماہر نوجوان کاریگروں اور انکے کام کو دیکھنے کی آرزو ہے۔بالکل گلگت کی طرح اسلام آباد اور پورے ملک میں مقامی کونسلوں کے انتخابات جس میں50فی صد نہیں تو30فی صد خواتین کی شرکت لازمی قرار پائے۔ کچھ اچھے کام نظر آنے شروع ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی خاتون نورین لہری کو شعبہ خواتین میں متعین کیاگیا ہے شزافاطمہ نے اپنی محنت سے کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کا نام سربلند کیا ہے۔ اب یہ نیا شوشا بھی ان کا کرشمہ ہے۔ ہم لوگ توتماش بین ،پڑھ لکھ کر، شاعری کرکے بھی، کسی شمار قطار میں نہیں۔ہم سے تو ارشد ندیم اچھاعالمی سطح پر تھرو کرنے کے بعد، ہر سڑک پراپنا نام لکھوارہا ہے۔

ایران ،امریکہ آبنائے ہر مزپر سینگ پھنسا ئے کھڑے ہیں۔ یہاں بھی شاید بڑے صاحب کا جادو چلے۔ مگر اب وہ کابینہ میں ردوبدل کے موضوع کو ہاتھ میں لیے ہیں۔ مہنگائی ان کا مسئلہ نہیں۔ قوم گرمی اور مہنگائی ہمیشہ کی طرح بھگت رہی ہے۔

تازہ ترین