کروز شپ میں ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عوام میں تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ بعض افراد اس صورتِ حال کا موازنہ کورونا کی وباء کے ابتدائی دنوں سے کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس کی صورتِ حال کسی بھی طرح کورونا جیسی عالمی وباء نہیں بن سکتی، کیونکہ دونوں وائرسز کے پھیلاؤ اور اثرات میں واضح فرق موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق کورونا وائرس ایک نامعلوم وائرس تھا جو ہوا کے ذریعے تیزی سے انسانوں میں منتقل ہوتا تھا، جبکہ ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ پہلے سے اچھی طرح سمجھا جا چکا ہے۔
یہ وائرس عموماً چوہوں کے فضلے، پیشاب یا لعاب کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق ہنٹا وائرس انسان سے انسان میں عام طور پر منتقل نہیں ہوتا، جب تک متاثرہ جسمانی رطوبتوں سے براہِ راست رابطہ نہ ہو۔
اسی وجہ سے اس وائرس کے بڑے پیمانے پر عالمی وباء بننے کے امکانات انتہائی کم قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہنٹا وائرس کورونا کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کی شرحِ اموات 40 سے 50 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔
ہنٹا وائرس کی ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، لیکن بعد میں یہ شدید پھیپھڑوں یا گردوں کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب کورونا وائرس کی علامات عموماً 2 سے 14 دن میں ظاہر ہوتی تھیں، جن میں سانس کی تکلیف کے ساتھ سونگھنے اور ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا بھی شامل تھا۔
ماہرین نے موجودہ صورتِ حال کو سنگین مگر قابو میں قرار دیا ہے، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے جبکہ کروز شپ کے مسافروں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے پہلے سے مؤثر اقدامات موجود ہیں، جن میں قرنطینہ، صفائی اور چوہوں پر قابو پانے کے طریقے شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وقت کورونا جیسے لاک ڈاؤن، ماسک مہم یا ویکسین کی ہنگامی تیاری کی ضرورت نہیں۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آؤٹ بریک اور پینڈیمک میں فرق ہوتا ہے، آؤٹ بریک کسی محدود علاقے میں بیماری کے اچانک پھیلاؤ کو کہا جاتا ہے، جبکہ پینڈیمک ایسی وباء ہوتی ہے جو کئی ممالک یا براعظموں تک پھیل جائے اور جس سے بڑے پیمانے پر عوامی صحت کا بحران بن جائے۔