• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے پے در پے حملے، گھروں و گاڑیوں کو آگ لگا دی، متعدد افراد زخمی

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی آبادکاروں نے مختلف علاقوں پر حملے کرتے ہوئے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جبکہ ایک فلسطینی بچے کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

عرب میڈیا نے خبر رساں ادارے وفا کے ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جنوبی الخلیل کے گاؤں خربت شویکہ میں آبادکاروں نے ایک شخص اور اس کے بچے پر تیز دھار آلات سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دونوں کے سر پر چوٹیں آئیں اور انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں اللبان الشرقیہ میں گھروں کو آگ لگا دی گئی جسے فلسطینی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجھایا۔

رام اللّٰہ کے شمال مشرق میں ابو فلاح میں آبادکاروں نے متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کر دیں اور گھروں کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے لکھے۔

جنین کے علاقے العساصہ میں اسرائیلی حکام نے مقامی افراد کو مجبور کیا کہ وہ حال ہی میں دفن کی گئی ایک لاش کو قبر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کریں اور مؤقف یہ دیا گیا کہ قبر غیر قانونی بستی کے قریب ہے۔

ٹوقو میں مقامی حکام کے مطابق مسجد سے نکلنے والے نمازیوں پر آنسو گیس اور صوتی بم پھینکے گئے اور کچھ افراد کو ایک جگہ بند کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی حکام آبادکاروں کو فلسطینیوں پر حملوں کے دوران مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ فروری میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو ’ریاستی زمین‘ قرار دینے کا منصوبہ بھی منظور کیا تھا۔

عرب میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق 700,000 سے زائد اسرائیلی مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں میں رہائش پزیر ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید