• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مئی 2025ءکے وہ چند گھنٹے یاد ہیں؟ فضا میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ خبریں تیزی سے آ رہی تھیں، قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں، اور سب کو احساس تھا کہ صورتحال معمولی نہیں۔ جنوبی ایشیا ایک بار پھر کشیدگی کے دہانے پر کھڑا تھا۔بھارت کی طرف سے وہی پرانا انداز۔ اشتعال، دباؤ، اور یہ خیال کہ شاید اس بار بھی وہ صورتحال کو اپنے حق میں موڑ لے گا۔

لیکن اس بار کہانی مختلف تھی۔پاکستان نے گھبراہٹ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔پاکستان نے جواب دیا وہ بھی ایسا جواب جو تاریخ میں درج ہو گیا۔نہ شور، نہ جذباتی فیصلے، نہ کوئی غیر ضروری جوابی کارروائی۔ بس مکمل تیاری، خاموش اعتماد، اور بروقت عملدرآمد۔ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام اور پاک فضائیہ نے جس انداز میں دشمن کی ہر کوشش کو ناکام بنایا، وہ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا۔

خاص طور پر رافیل جیسے جدید طیاروں کے مقابلے میں پاکستان کی کارکردگی نے ایک بات ہمیشہ کیلئےواضح کر کہ "جنگ میں برتری دعوؤں سے نہیں، کارکردگی سے ثابت ہوتی ہے"۔اور اس دن پاکستان نے خود کو ثابت کیا۔معرکۂ حق صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھی۔ یہ وہ لمحہ تھاجب پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کو یقینی بنایا بلکہ ایک ممکنہ بحران کو پھیلنے سے پہلے ہی روک دیا۔ یہ طاقت کا نہیں، ضبط کا مظاہرہ تھا۔اور اس ضبط کے پیچھے قیادت کھڑی تھی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں جو فیصلہ سازی ہوئی، وہ غیر معمولی تھی۔ ہر قدم سوچا سمجھا، ہر ردِعمل نپا تلا، اور ہر اقدام اس بات کو سامنے رکھ کر کیا گیا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنا ہے، بڑھانا نہیں۔یہی اصل قیادت ہوتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی عسکری قیادت دنیا کی بہترین قیادتوں میں شمار ہوتی ہے۔ صرف قیادت ہی نہیں، ہماری افواج نے بھی خود کو ثابت کیا۔ پاک فضائیہ، ایئر ڈیفنس سسٹم اور ہر سطح پر موجود اہلکاروں نے جس پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر ہے۔ پائلٹس کا اعتماد، آپریٹرز کے فوری فیصلے، اور ہر سپاہی کی ذمہ داری کا احساس، یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو کسی بھی مضبوط ریاست کی پہچان ہوتی ہے۔

یہ صرف تیاری نہیں تھی، یہ مہارت کی انتہا تھی۔لیکن ایک بات اور ہے، جو شاید ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔معرکۂ حق صرف فوج کی کہانی نہیں، یہ قوم کی کہانی بھی ہے۔ان چند گھنٹوں میں صرف محاذ پر کھڑے لوگ ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان ایک ساتھ کھڑا تھا۔ گھروں میں، مسجدوں میں، دعاؤں میں، ہر جگہ ایک ہی جذبہ تھا’یقین اور حوصلہ‘۔کسی نے گھبراہٹ نہیں دکھائی۔ کسی نے ہمت نہیں ہاری۔ہر پاکستانی نے اپنا کردار ادا کیا، چاہے وہ دعا کی صورت میں تھا، حوصلے کی صورت میںیا صرف اس یقین میں کہ ہم اس امتحان سے سرخرو نکلیں گے۔

یہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو مضبوط بناتی ہے۔معرکۂ حق ایک دن میں نہیں بنا۔ اس کے پیچھے دہائیوں کا وژن ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جس خودمختار دفاعی سوچ کی بنیاد رکھی، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسے آگے بڑھایا اور صدر آصف علی زرداری نے اسے مزید مستحکم کیا۔ آج بھی یہ تسلسل بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک واضح قومی سمت کے طور پر موجود ہے۔یہی وہ سوچ تھی جس نے پاکستان کو اس مقام تک پہنچایا کہ وہ کسی بھی چیلنج کا سامنا کر سکے۔لیکن پاکستان کی اصل پہچان صرف طاقت نہیں ہے۔یہ ہے کہ ہم اس طاقت کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔سالہا سال سے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑا رہا ہے۔ ہم نے اپنی جانیں دیں، اپنی معیشت کا بوجھ اٹھایا اور اپنے خطے کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا۔ہم ایک Bulwark against terrorism ہیں، نہ کہ اس کے حامی۔اور یہی اصول عالمی سطح پر بھی نظر آتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی، پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ خاموشی سے، بغیر کسی شور کے، اس نے مکالمے کو زندہ رکھنے اور کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔یہ پاکستان کی مستقل پالیسی ہے۔ایک ایسی ریاست جو اپنے دفاع میں مضبوط ہو، وہی امن کی بات بھی اعتماد کے ساتھ کر سکتی ہے۔آج جب ہم معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں، تو یہ صرف ایک کامیابی کی یاد نہیں، بلکہ ایک احساس ہے۔یہ ہماری جیت تھی۔ایسی جیت جس نے ہر پاکستانی کو فخر دیا۔ اپنی افواج پر فخر، اپنی قیادت پر فخر اور سب سے بڑھ کر اپنی قوم پر فخر۔ان لمحوں میں پاکستان نے صرف اپنے آسمانوں کا دفاع نہیں کیا۔اس نے اپنا عزم ثابت کیا۔اور یہی معرکۂ حق کا اصل پیغام ہے۔جب وقت آیا، پاکستان ڈٹا رہا۔اور اس بار، صرف ریاست نہیں… پوری قوم ڈٹی رہی۔

(مصنفہ رکنِ قومی اسمبلی پاکستان ہیں)

تازہ ترین