ایران میں جنگی صورتِ حال کے دوران مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی، خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث لاکھوں خاندانوں کے لیے بنیادی اشیائے ضروریہ خریدنا بھی مشکل ہو گیا۔
ایرانی ادارۂ شماریات کے مطابق فارسی سال کے پہلے مہینے فروردین میں غذائی مہنگائی کی شرح 115 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ بعض بنیادی اشیاء کی قیمتیں 3 گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خوردنی تیل 375 فیصد، کوکنگ آئل 308 فیصد، درآمدی چاول 209 فیصد، ایرانی چاول 173 فیصد جبکہ مرغی 191 فیصد مہنگی ہو گئی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے موجودہ حالات کو سمجھنے اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکلات ضرور ہیں لیکن عوامی تعاون سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی کرنسی ریال بھی شدید دباؤ کا شکار ہے، 1 امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر گر کر تقریباً 17 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 1 سال قبل یہی شرح تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار تھی۔
ماہرین کے مطابق جنگ، معاشی پابندیوں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن نے ایران کی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات عام شہریوں اور کاروبار دونوں پر تیزی سے پڑ رہے ہیں۔