میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پولیو بوسٹر ڈوز مہم کا افتتاح کر دیا، لیاری فٹبال اسٹیڈیم میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے، 89 ہائی رسک یونین کونسلز میں مہم 25 مئی 2026ء تک جاری رہے گی۔
اس موقع پر میئر کراچی کا کہنا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا رہی ہے، بچوں کا محفوظ اور صحت مند مستقبل ہماری اولین ترجیح ہے، کے ایم سی، محکمۂ صحت اور متعلقہ ادارے پولیو کے خاتمے کے لیے متحد ہیں، پولیو فری کراچی کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، لیاری سمیت شہر بھر میں انسدادِ پولیو مہم کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا قومی ذمے داری ہے، ہمیں منفی پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دینی چاہیے، انتظامیہ سے تعاون کریں، ہمیں اپنے عمل سے اور کردار سے اس منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرنا ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرز کو میں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، بچوں کو معذوری سے بچانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے، آج جو فیصلہ کر رہے ہیں اس کا فائدہ مستقبل میں ہو گا، پچھلے دنوں میں نے اور ڈپٹی میئر نے بھی بوسٹر ڈوز لگوائی تھی۔
رپورٹس کے مطابق مہم کے دوران 4 ماہ سے 10 سال تک کے 20 لاکھ بچوں کو بوسٹر ڈوز لگائی جائیں گی تاکہ ان کی قوتِ مدافعت مزید مضبوط بنائی جا سکے اور پولیو وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
اس مہم میں جدید جیٹ انجیکٹر ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، جس کے ذریعے بغیر سوئی ویکسین کو تیز دباؤ کے ساتھ جلد کے نیچے پہنچایا جاتا ہے، یہ طریقۂ کار درد سے پاک اور بچوں کے لیے زیادہ آسان سمجھا جا رہا ہے۔
یہ مہم کراچی کے مختلف اضلاع بشمول سینٹرل، ایسٹ، کیماڑی، کورنگی، ملیر اور ویسٹ میں چلائی جارہی ہے، جبکہ بلوچستان کے کوئٹہ بلاک میں بھی اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
پولیو مہم ان یوسیز میں چلائی جا رہی ہے جہاں سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی ہے۔
امریکی کمپنی فارما جیٹ کے مطابق ان کے ٹروپس سسٹم کو عالمی ادارۂ صحت کی سفارش پر پاکستان میں پولیو مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
نائجیریا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین لگوانے والے بچوں کی تعداد روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اخراجات میں بھی 47 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ اور ان بچوں کو اضافی تحفظ فراہم کرنا ہے جن میں صرف پولیو کے قطرے پلانے سے مکمل مدافعت پیدا نہیں ہو پاتی۔