وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی اُن کے پاس نہیں آتی، جن کے پاس جاتی ہے ان سے پوچھ لیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ بجلی اور کھاد پیداوار کے لیے توانائی ضروریات پوری کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ گرمی کے ساتھ بجلی پیداوار کے لیے ایندھن کی ضروریات بڑھیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کھاد پیداوار کے لیے بھی گیس فراہمی کی ضروریات پوری کریں گے۔
پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی کا ہدف پورا ہونے کے سوال پر وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ لیوی ان کے پاس تو نہیں آتی، جن کے پاس جاتی ہے ان سے پوچھ لیں۔
اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بریفنگ دی اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق خدشات پر جواب دیا۔
اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80،80 روپے طے ہے، جسے پوری کرنا ضروری تھا۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ پیٹرولیم اسٹاکس تو کمپنیوں کے پاس ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کریں گے۔
وزیر پیٹرولیم نے شرکاء کو بتایا کہ ہمیں تیل کے اسٹاکس بھی برقرار رکھنے تھے، ہم آپ کو ہر کمپنی کا ڈیٹا فراہم کر دیں گے، معاملے کو ایف آئی اے بھی دیکھ رہا ہے۔