امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے ملزم نے عدالت میں تمام الزامات سے انکار کر دیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 سالہ کول ایلن نے واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہو کر خود کچھ نہیں کہا، تاہم اس کی وکیل تیزیرا ایبے نے اس کی جانب سے بے گناہی کی درخواست جمع کرائی۔
سماعت کے دوران ملزم کول ایلن کو نارنجی قیدیوں کے لباس اور ہتھکڑیوں میں عدالت لایا گیا، کیس کی سماعت امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹریور میک فیڈن نے کی۔
دوسری جانب ملزم کے وکیل یوجین اوہم نے مؤقف اختیار کیا کہ قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش اور امریکی اٹارنی جینین پیرو کو کیس سے الگ کیا جائے کیونکہ وہ تقریب میں موجود تھے اور ممکنہ طور پر حملے کے اہداف میں شامل تھے۔
وکیل کا کہنا ہے کہ کسی مبینہ حملے کے متاثرین کا خود اس مقدمے کی پیروی کرنا مناسب نہیں۔
استغاثہ کے مطابق کول ایلن نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس رپورٹرز ڈنر کے دوران سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا اور ایک امریکی خفیہ سروس اہلکار پر شاٹ گن سے فائرنگ کی کوشش کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر ارکان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم ٹرین کے ذریعے کیلیفورنیا سے واشنگٹن پہنچا اور اس کے قبضے سے شاٹ گن، پستول اور چاقو برآمد ہوئے، اس نے اسی ہوٹل میں کمرہ بھی بک کر رکھا تھا جہاں 25 اپریل کو وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر منعقد ہوا تھا۔
عدالت نے استغاثہ کو دفاع کی درخواست پر 22 مئی تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔